تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 278

جبکہ مکہ کے لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جان لیوا دشمن بن گئے ایک شخص جس نے ابوجہل سے کچھ روپیہ لینا تھا مگر وہ دیتا نہیں تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے عرض کیا کہ آپ حلف الفضول میں شامل رہ چکے ہیں اور آپ نے اس کی قسم کھائی تھی کہ ہمیشہ مظلوموں کی مدد فرمائیں گے میں آپ کو آپ کا عہد یاد دلاتے ہوئے درخواست کرتا ہوں کہ میرا کچھ روپیہ ابو جہل نے دینا ہے آپ اس کے پاس چلیں اور مجھے یہ روپیہ دلا دیں۔جب اُس نے یہ بات کہی تو باوجود اس کے کہ مکہ میں کھلے بندوں پھرنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خطرہ کا موجب تھا اور پھر ابوجہل آپ کا شدید ترین دشمن تھا اور ہو سکتا تھا کہ وہ آپ کو کوئی نقصان پہنچائے۔آپ فوراً اُٹھے اور اُس کے ساتھ چل کر ابوجہل کے مکان پر جا پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ابو جہل دستک کی آواز سن کر باہر نکلا آپ نے فرمایااس شخص کا تم نے کچھ روپیہ لیا ہوا ہے وہ فوراً اسے ادا کر دو۔ابوجہل بلاچوں و چرا اندر گیا اور روپیہ لاکر اُس نے اُس شخص کے حوالے کر دیا۔ابوجہل کا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر ایک شخص کو اس کا روپیہ دے دینا کوئی ایسی بات نہ تھی جو چھپی رہتی۔جنگل کی آگ کی طرح یہ بات مکہ میں پھیل گئی اور لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ ابو الحکم ہمیں تو کہتا ہے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات نہ مانواور خود اُس سے اتنا ڈر گیا کہ ایک منٹ کے اندر اندر روپیہ دینے کے لئے تیار ہو گیا۔جب اُس نے یہ باتیں سنیں تو وہ کہنے لگا۔خدا کی قسم اگر تم میری جگہ ہوتے تو تم بھی وہی کام کرتے جو میں نے کیا ہے۔کیونکہ جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آیا تو مجھے اُس کے دائیں اور بائیں دو مست اونٹ کھڑے دکھائی دئیے۔جن کو دیکھ کر میرا دل سخت خوف زدہ ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ اگر میں نے اُس کی بات نہ مانی تو یہ دونوں اونٹ مجھے چیر کر کھا جائیں گے(السیرة النبویة لابن ہشام امر الاراشی الذی باع اباجھل ابلہ )۔اب یہ بات تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اُسے کوئی ایسا نظارہ نظر آیا تھا یا حق کا رعب اُس پرچھا گیا تھا مگر بہر حال جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حلف الفضول کے معاہدہ کے احترام میں ایک مظلوم شخص کا حق دلانے کے لئے انتہائی خطرات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اُس کے پاس گئے تو سچائی کے رُعب نے اُس کی شرارت کی رُوح کو کچل دیا اور وہ مظلوم کا حق دینے کے لئے تیار ہو گیا۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفائے عہد کا اس قدر پاس تھا کہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب یہ معاہدہ ہوا کہ اگر مکہ کے لوگوں میں سے کوئی نوجوان مسلمان ہوا تو اسے اس کے رشتہ داروں کی طرف واپس کر دیا جائےگا لیکن جو مسلمان مکہ والوں کی طرف واپس جائےگا اُسے مکہ والے واپس کرنے پر مجبور نہیں ہوںگے۔تو ابھی اس معاہدہ کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سہیل جو مکہ والوں کی طرف سے معاہدہ کر رہاتھا اُس کا اپنا بیٹا رسیّوں سے جکڑا ہوا اور