تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 276
امانت کی ادائیگی کا کتنا احساس رکھتے تھے اورکس طرح جنگ کے دوران میں بھی دشمن قوم کے اموال پر بے جا قبضہ کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔موجودہ زمانہ انتہائی ترقی یا فتہ دور کہلاتا ہے۔مگر آجکل بھی کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ جنگ کے دوران میں دشمن اقوام کے جانور ہاتھ آگئے ہوں تو اُن کو دشمن کی فوج کی طرف واپس کر دیا گیا ہو۔لڑنے والوں کے اموال آج کل جنگ میں حلال سمجھے جاتے ہیں اور لُوٹ کھسوٹ ایک روزمرہ کا کھیل سمجھا جاتا ہے مگر باوجود اس کے وہ بکریاں ایک ایسے شخص کی تھیں جو اسلامی افواج کے مقابلہ میں بر سرِ پیکار تھا۔اور باوجود اس کے کہ ان بکریوں کے قلعہ میں واپس چلے جانے کا یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ مہینوں تک انہیں اپنی غذا کا سامان مہیا ہو جاتا اور لڑائی لمبی ہو جاتی۔پھر بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ برداشت نہ کیا کہ امانت میں خیانت ہو بلکہ آپ نے فرمایا بکریوں کا منہ قلعہ کی طرف کر دو اور انہیں اس طرف کوہانک دو تا کہ امانت میں خیانت واقع نہ ہو۔اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مسلمان ہوتے ہی پہلا سبق یہ دیا کہ جب کوئی امانت تمہارے پاس رکھ دی جائے تو تمہارا فرض ہے کہ انتہائی مشکلات میں بھی اُس کی حفاظت کرو اور جس کی چیز ہے اُسے واپس پہنچاؤ۔صحابہؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سبق سیکھا اور انہوں نے بھی اس پر ایسی سختی سے عمل کیا جس کی نظیر آج تہذیب و شائستگی کی دعویدار اقوام میں بھی کہیں نظر نہیں آسکتی۔یہ کتنا شاندار نمونہ ہے جو صحابہؓ نے دکھایا کہ حمص جو عیسائیوں کا ایک مرکزی شہر تھا اُس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا اور انہوں نے لاکھوں روپیہ عیسائیوں سے ٹیکس کے طور پر وصول کر لیالیکن جب انہیں جنگی مصلحتوں کے ماتحت اس شہر کو خالی کرنا پڑا تو انہوں نے وہاں کے ذمہ دار افراد کو بلایا اور اُن کا سارا روپیہ اُن کو واپس کردیا اور کہا ہم نے تم سے یہ ٹیکس اس لئے لیا تھا کہ ہم تمھارے جان و مال کی حفاظت کریں گے۔مگر اب چونکہ حالات مخدوش ہو رہے ہیں اور ہم اس شہر کو چھوڑ رہے ہیں اس لئے ہم دیانت و امانت کے اصول کے خلاف یہ بات سمجھتے ہیں کہ تمہارا روپیہ اپنے پاس رکھیں۔چنانچہ لاکھوں روپیہ ان کو واپس کر دیا گیا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اس واقعہ نے عیسائیوں کے قلوب پر ایسا گہرا اثر چھوڑا کہ جب مسلمانوں کا لشکر شہر سے نکلا تو وہ ساتھ ساتھ الوداع کہنے کے لئے چل پڑے۔اُن کی آنکھوں سے آنسو بہتے جاتے تھے اور وہ کہتے جاتے تھے کہ خدا تمہیں پھر دوبارہ واپس لائے کہ ہم نے تمہارے جیسے نیک حاکم آج تک نہیں دیکھے(فتوح البلدان للبلاذری امر حمص و یوم الیرموک)۔اسی طرح اسلام نے حکومت کو بھی امانت قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ جب یہ امانت تمہارے سپرد ہو تو تم اس میں کبھی خیانت نہ کرو اور ہمیشہ حکومت کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دو جو حکومتی ذمہ داریوں کو پوری دیانت کے ساتھ ادا کرنے والے ہوں اور تاریخ بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے اس حکم پر بھی انتہائی سختی کے ساتھ عمل کیا ہے۔