تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 277

گبن یورپ کا ایک مشہور عیسائی مؤرخ ہے۔اُس نے روم کے حالات کے متعلق ایک تاریخی کتاب لکھی ہے۔وہ اس کتاب میں ملک شاہ کے متعلق جو الپ ارسلان کا بیٹا تھا بیان کرتا ہے کہ ابھی چھوٹی عمر کا تھا کہ اُس کا والد فوت ہوگیا۔اُس کے مرنے کے بعد ملک شاہ کے ایک چچا ایک چچا زاد بھائی اور ایک سگے بھائی نے بالمقابل بادشاہت کا دعویٰ کر دیااور آپس میں خانہ جنگی شروع ہو گئی۔نظام الدین طوسی ملک شاہ کے وزیر اعظم تھے اور چونکہ وہ شیعہ تھے انہوں نے ملک شاہ سے درخواست کی کہ آپ میرے ساتھ امام موسیٰ رضا کے مزار پر دُعا کے لئے تشریف لے چلیں تاکہ اللہ تعالیٰ اس جنگ میں آپ کو کامیاب فرمائے۔ملک شاہ چل پڑا اور اُس نے وہاں دُعا کی جب دعا سے فارغ ہوئے تو ملک شاہ نے نظام الدین طوسی سے پوچھا کہ بتائیے آپ نے کیا دعا کی ہے اُس نے کہا میں نے تو یہ دُعا کی ہے کہ خدا تعالیٰ آپ کو فتح بخشے۔ملک شاہ نے کہا لیکن میں نے تو یہ دُعا نہیں کی۔میں نے تو یہ دعا کی ہے کہ اے میرے رب!اگر میرا بھائی مسلمانوں پر حکومت کرنے کا مجھ سے زیادہ اہل ہے تو تُو اُسے کامیابی بخش اور میری جان اور میرا تاج مجھ سے واپس لے لے۔اگر میں اس امانت کو زیادہ عمدگی سے ادا کرنے کے قابل ہوں تو پھرتُو مجھے کامیابی عطا فرما۔(ابن خلقان جلد پنجم صفحہ ۲۸۵)گبن ایک نہایت ہی متعصب عیسائی مؤرخ ہے مگر اس واقعہ کے سلسلہ میں وہ بے اختیار لکھتا ہے کہ اس مسلمان نوجوان شہزادہ کے اس قول سے زیادہ پاکیزہ اور وسیع نظر یہ تاریخ کے صفحات میں تلاش کرنا نا ممکن ہے اور عیسائیت کے بوڑھے بوڑھے بادشاہ بھی ایسے اخلاق کا مظاہرہ نہیں کرتے(The Decline and Fall of the Roman Empire v۔2 chapter LVIII pg۔984)۔یہ رُوح جو مسلمانوں کے اندر پیدا ہوئی اسی بات کا نتیجہ تھی کہ اسلام نے ان کے دماغوں میں بڑی سختی کے ساتھ یہ بات مرکوز کر دی تھی کہ حکومت بھی ایک امانت ہے اور تمہارا کام یہ ہے کہ تم کبھی کسی امانت میں خیانت نہ کرو۔پھر ایفائے عہد کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قد ر خیال رہتا تھا کہ ابھی آپ نے دعوٰئے نبوت بھی نہیں فرمایا تھا کہ قبائلی لڑائیوں اور روزمرہ کے باہمی جھگڑوں اور فسادات کو دیکھ کر مکہ کے چند نوجوانوں نے ایک انجمن بنائی جس کی غرض یہ تھی کہ وہ مظلوموں کی مدد کیا کرے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس مجلس میں شامل ہوئے اور سب نے مل کر یہ قسمیں کھائیں کہ جب تک سمندر میں پانی کا ایک قطرہ تک بھی موجود ہے وہ ہمیشہ مظلوموں کی مدد کریں گے اور اُن کے حق ان کو ظالم سے دلوانے کی کوشش کریں گے اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے تو اپنے پاس سے مظلوم کا حق ادا کریں گے۔یہ انجمن جو مظلوموں کی دادرسی اور اُن کی اعا نت کا بیڑہ لے کر اُٹھی تھی اُس نے کیا کام کیا اور کس طرح مظلوموں کی مدد کی ؟ اس بارہ میں تاریخی طورپر کچھ زیادہ معلومات نہیں ملتیں مگر دعویٰ نبوت کے بعد