تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 252

کو کیا کیا جائے کہ بغیر تحقیق کے بعض لوگ رائے زنی شروع کر دیتے ہیں۔زمانہ سورۃ یہ سورۃ اپنے مضمون کے لحاظ سے ہجرت سے پہلے کے آخری دور کی ہے۔چنانچہ علامہ جلال الدین ؔسیوطی ؒ اس کو مکّی سورتوں میں سب سے آخری سورۃ کہتے ہیں۔بعض لوگ اس کو مدنی سورۃ بھی قرار دیتے ہیں۔لیکن اُن کی رائے جمہور علماء کے نزدیک کچھ وقعت نہیں رکھتی۔(A COMPREHENSIVE COMMENTARY ON THE QURAN VOL۔3 P۔174) ریورنڈ وہیری نےاس کو چھ اور سات سال بعد نبوت کے زمانہ کی قرار دیا ہے۔لیکن زیادہ درست یہی ہے کہ یہ سورۃ ہجرت کے قریب زمانہ میں مگر اس سے پہلے نازل ہوئی خواہ یہ آخری سورۃ نہ ہو جیسا کہ علامّہ جلال الدین سیوطیؒ نے کہا ہے۔اس سورۃ میں اس بات پر خاص زور دیا گیا ہے کہ مومن کامیاب ہونے والے ہیں اور اُن کی کامیابی کا زمانہ قریب آگیا ہے۔دوسرے اس میں زکوٰۃ پر بھی خاص زور دیا گیا ہے۔تیسرے اس میں باجماعت نماز پر بھی خاص طور پر زور ہے۔یہ تین مضمون ایسے ہیں جو مدنی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔پس ان مضمونوں پر زور دینے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے پورا ہونے کا زمانہ قریب آگیا تھا۔وہیری کی رائے کہ چھٹے یا ساتویں سال بعد نبوت میں یہ نازل ہوئی ہمارے لئے بہت ہی مفید ہے کیونکہ اس رائے کو مان لینے سے پیشگوئی کی قدر اور بھی بڑھ جاتی ہے مگر اسلامی روایات اور سورۃ کے مضمون کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ سورۃ ہجرت سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے نازل ہوئی تھی لیکن ہم وہیری کی تصدیق کرنے کی جرأت نہیں کرتے کہ یہ چھٹے یا ساتویں سال بعد نبوت نازل ہوئی تھی۔ترتیب مضامین اس سورۃ کا قریبی تعلق پہلی سورۃ سے یہ ہے کہ سورۃ حج کے آخرمیں فرمایا تھا کہ اے مومنو! خدا تعالیٰ کی طرف جھکو اور اس کی اطاعت کرو تو تم کامیاب ہو گے۔اسی طرح جہاد بالسیف کے وقت میں جہاد بالسیف کرو اور جہاد بالدعوۃ کے موقعہ پر جہاد بالدعوۃ کرو۔اور یہ متبادل حکم کہ کبھی جہاد بالسیف اور کبھی جہاد بالدعوۃ ہم نے اس لئے دیا ہے کہ دین کے بارہ میں ہم نے کوئی تنگی نہیں رکھی یعنی نہ غیر مومنوں پر جبر جائز رکھا ہے اور نہ مومنوں کو اُن کی ضمیر کے خلاف کوئی حکم دیا ہے۔پھر بتایا گیا تھا کہ جہاد فی الدین کے نتیجہ میں تم کو نمازیں پڑھنی چاہئیں۔زکوٰتیں دینی چاہئیںاور خدا تعالیٰ کا دامن اس زور سے تھام لینا چاہیے کہ وہ یارِ یگانہ تم سے کبھی جدا نہ ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو لازمًا وہ تمہارا مددگار ہوگااور تمہارے کام پورے کرےگا۔ان آیات میں مشروط طور پر بتایا گیا تھا کہ اگر تم ایسا کرو گے تو