تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 251 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 251

سُوْرَۃُ الْمُؤْمِنُوْنَ مَکِّیَّۃٌ سورۃ مومنون یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ مِائَۃٌوَّ تِسْعَ عَشْرَۃَ اٰیَۃً وَّسِتَّۃُ رُکُوْعَاتٍ اور بسم اللہ سمیت اس کی ایک سو انیس آیات اور چھ رکوع ہیں۔۱؎ ۱؎ قرطبی کا قول ہے کہ یہ ساری سورۃ مکی ہے اور اس میں کسی شخص نے اختلاف نہیں کیا (تفسیر القرطبی سورۃ المؤمنون ) اس کی آیتیں بصریوں کے نزدیک۱۱۹اور کوفیوں کے نزدیک۱۱۸ہیں(ہمارے نزدیک بھی اس سورۃ کی آیتیں۱۱۹ہیںلیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم بسم اللہ کو بھی ہر سورۃ کا حصہ سمجھتے ہیں۔دوسرے مفسرین بسم اللہ کو سورۃ کے اندر رکھنا تو ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس کو سورۃ کا حصہ نہیں سمجھتے۔ہمارے نزدیک اوپر کی دونوں وجوہ کی موجودگی میںاس کو سورۃ کا حصہ نہ سمجھنا مضحکہ خیز ہے۔پس بسم اللہ کی بعد کی آیتوں کے متعلق تو ہمیں کوفیوں سے اتفاق ہے کہ۱۱۸ہیں لیکن بسم اللہ کو ملا کر۱۱۹آیتیں ہیں۔اس اختلاف کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان لوگوں کے نزدیک کوئی آیت کم یا زیادہ ہے۔بلکہ صرف اتنا مطلب ہے کہ ایک فریق نے ایک آیت کو دو آیتیں قرار دیا ہے اور دوسرے فریق نے اُن آیات کو ایک آیت قرار دیا ہے۔بصریوں کے نزدیک ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰيٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ (آیت۴۶)پوری آیت ہے اور کوفیوں کے نزدیک یہ آیت پوری نہیں بلکہ اگلی آیت کا حصہ ہے چونکہ انہوں نے اسے اگلی آیت کا حصہ قرار دیا ہے اس لئے انہوں نے ایک آیت کم شمار کی ہے۔مسیحی پادری چونکہ ان باتوں سے واقف نہیں۔ان میں سے بعض نے ایسے حوالہ جا ت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت مشتبہ ہے۔کیونکہ بعض لوگ اس کی آیتیں زیادہ بتاتے ہیں اور بعض کم بتاتے ہیں۔حالانکہ جیسا کہ اوپر کے حوالہ سے ثابت ہے یہ کمی بیشی حقیقی نہیں بلکہ آیتوں کی تعیین کی وجہ سے کمی بیشی ہو گئی ہے۔بعض لوگوں نے مضمون کے لحاظ سے ایک عبارت کو پوری آیت قرار دے دیا ہے اور بعض نے اس کو آدھی آیت قرار دے کر دوسری کا حصّہ سمجھ لیا ہے۔اس وجہ سے لازماًسورۃ کی آیتوں کے شمار میں فرق پڑ گیا ہے۔ورنہ مضمون سارے کا سارا ایک ہے۔ہر لفظ دونوں کے نزدیک مسلّم ہے۔ایک حرف کی بھی کمی بیشی سارے قرآن میں نہیں مگر اس جہالت