تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 250
کرتا ہے وہ غیر مسلم ہے چاہے وہ رات دن اپنے آپ کو مسلم کہتا رہے کیونکہ نام کے ساتھ کوئی چیز بدل نہیں جاتی۔ہم دیکھتے ہیں بچے بعض دفعہ ایسی حالت میں جبکہ اُن کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں ہوتی کھیلتے ہوئے دوسرے بچے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں لو میں تمہیں آم دیتا ہوں۔تم کھا لو یا پیسہ دیتا ہوں تم لے لو۔حالانکہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا۔اب بچوں کا ایسا فعل ایک مذاق کے طور پر تو کام آسکتا ہے۔یہ فائدہ تو ہو سکتا ہے کہ ماں با پ یا بھائی وغیرہ ہنس پڑیں۔یا جس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر ایسا کیا جاتا ہے وہ ہنس پڑے اور سمجھے کہ مجھ سے مذاق کیا گیا ہے لیکن اس سے کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہو سکتا۔خیالی طور پر تم کسی کو دنیا کی بادشاہت بھی بخش دو تو اُس کے حالات میں کوئی تغّیر نہیں آئے گا۔لیکن حقیقی طور پر اگر تم کسی کو ایک پیسہ بھی دے دو تو وہ اُس سے فائدہ اُٹھالے گا۔یہی حال ایمان کا ہے۔اگر کوئی شخص صرف اسلام کے نام سے کام لے تو وہ دنیا کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔لیکن اگر وہ اسلام کے مفہوم کے مطابق تھوڑا سا بھی عمل کر ے تو بہت کچھ فائدہ حاصل کر سکتا اور دوسروں کو بھی حقیقی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔خ خ خ خ خ