تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 249

پانی بہ کر کھیتی میں پہنچتا ہے تو کھیتی کی حفاظت کرتا ہے اور اُسے خشک ہونے سے بچاتا ہے۔اسی طرح لَسْمٌ ہے۔اس کے معنے چُپ رہنے کے ہیں اور یہ ضر ب المثل مشہور ہے کہ ’’ نِکلی ہونٹوں چڑھی کوٹھوں۔‘‘ حفاظت اور امن جو خاموشی میں نصیب ہوتا ہے اُس کو ہر ایک جانتا ہے۔مَلْسٌ مداہنت کو کہتے ہیں اور مداہنت کی غرض ہمیشہ یہی ہوتی ہے کہ کسی شخص کے شر سے چکنی چپڑی باتیں کرکے انسان محفوظ ہو جائے۔غرض سَ لَام مَیم یہ تینوں حروف آگے پیچھے ہو کر جس طرح بھی آئیں عربی زبان میں ان کے معنے حفاظت کے ہی ہوتے ہیں۔پس اسلام کے معنے یہ ہوئے کہ ایسے افعال بجا لانا جن سے انسان ہلاکت سے محفوظ ہو جائے۔گویا اس نام میں ہی اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض بتا دی ہے جو یہ ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کے غضب سے محفوظ ہوجائیں اور آپس کے لڑائی جھگڑوں سے نجات پا جائیں۔یعنی ایک طرف تو ان کا اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق قائم ہو جائے اور دوسری طرف وہ نبی نوع انسان سے ایسا اچھا سلوک رکھیں کہ اُن میں باہم محبت اور یگانگت پیدا ہو جائے اور فتنہ و فساد دنیا سے مٹ جائے۔اور ایک سچا مذہب انہی دو ۲ ا غراض کا حامل ہوتا ہے۔یعنی ایک طرف تو وہ تعلق باللہ کے پہلو کو مضبوط کرتا ہے اور دوسری طرف وہ شفقت علیٰ خلق اللہ کی طرف بنی نوع انسان کو توجہ دلاتا ہے۔اور جب اس کی تعلیم کے نتیجہ میں لوگوں کا خدا تعالیٰ سے بھی تعلق ہو جائے اور بنی نوع انسان سے بھی وہ شفقت کرنے لگیں تو نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں کسی ناراضگی کا ڈر ہو سکتا ہے اور نہ بنی نوع انسان کی طرف سے انہیں کوئی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔اور اس طرح وہ روحانی اور جسمانی دونوں رنگ میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔غرض اس نام میں ہی اللہ تعالیٰ نے مذہب کی ساری حقیقت بیان کر دی ہے۔اور بتا یا ہے کہ اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں خدا تعالیٰ کے حقوق بھی کامل طور پر ادا کئے گئے ہیں اور بنی نوع انسان کے حقوق کا بھی اس میں پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ہر انسان کا پہلا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہوتا ہے۔پس وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بن جاتا ہے وہ مسلم ہوتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے احکام کے آگے اپنے آپ کو کلیۃً ڈال دیتا ہے اور یہی اسلام کی توضیح او ر اس کی صحیح تشریح ہے دوسرا تعلق انسان کا اپنی ذات اور بنی نوع انسان سے ہوتا ہے۔پس جو شخص اپنی ذات کو فتنوں میں پڑنے سے بچا لیتا ہے۔شرارتوں میںپڑنے سے بچا لیتا ہے۔بد دیانتیوں ،خیانتوں اور ظلموں میں پڑنے سے بچا لیتا ہے۔جھوٹ ، فریب۔دغا۔بغض اور کینہ سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے۔وہ بھی مسلم ہے کیونکہ اُس نے اپنی جان کو سلامتی عطا کی۔اسی طرح جو شخص اپنی قوم کے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ بھی مسلم ہے۔جو شخص اپنے ہمسائیوں اور رشتہ داروں کو امن دیتا اور فساد اور خونریزی اُن کے لئے پیدا نہیں کرتا وہ بھی مسلم ہے۔مگر جو شخص اس کے خلاف عمل