تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 248
دلالت کرتے ہیں قَ صَ رَ ان معنوں پر دلالت نہیں کرتے۔غرض دوسری زبانوں میں تو چیزوں کے نام صرف علامت کے طور پر ہیں۔اگر ان کو بدل کر اَور لفظ بھی رکھ دئیے جائیں تو کوئی حرج واقع نہیں ہوتا لیکن عربی زبان میں ہر ایک نام نہ صرف علامت کے طور پر ہوتا ہے بلکہ اس چیز کے کسی خاص امتیاز پر بھی دلالت کرتا ہے اور اس وجہ سے ایک لفظ کی بجائے ہم دوسرا لفظ نہیں رکھ سکتے۔خد اتعالیٰ نے اسلام کے لئے بھی ایسا ہی نام چُنا ہے جو اپنے اندر بڑی بھاری خوبیاں اور حکمتیں لئے ہوئے ہے۔چنانچہ س لَام میم جو اسلام کے اصلی حروف یا روٹ ہیں عربی زبان میں جہاں بھی اکٹھے ہوںگے وہاں ان کے معنوں میں حفاظت کے معنے ضرور پائے جائیں گے۔اور پھر یہ حروف جس شکل میں بھی بدلتے چلے جائیں اُن سب صورتوں میں حفاظت کے معنے بد ستور پائے جائیںگے۔مثلاً اسلام ہے اس کے معنے فرمانبرداری کے ہیں اور ان معنوں میں حفاظت لازمی طور پر پائی جاتی ہے۔کیونکہ جب کوئی شخص کسی بڑے آدمی کی فرمانبرداری کرتا ہے اور اس کی بات مان لیتا ہے تو طبعی طور پر وہ اُن تکالیف سے محفوظ ہو جاتا ہے جو اس بڑے آدمی کی طرف سے پہنچ سکتی ہیں۔اور پھر اُسی کے مال و جان کی حفاظت کی جاتی ہے جو مطیع و منقاد ہو۔چنانچہ جو لوگ باغی ہو تے ہیں وہ گورنمنٹ کی حفاظت میں نہیں ہوتے۔بلکہ گذشتہ زمانہ میں تو ایسے لوگ آئوٹ آف لاز کہلاتے تھے۔اور اُن کو اگر کوئی قتل بھی کر دیتا تھا تب بھی گورنمنٹ کوئی گرفت نہیں کرتی تھی پھر سَلْمٌ ہے۔جس کے معنے آفات اور مصائب سے بچنے کے ہیں۔اسی طرح سَلَمَ الْجِلْدَ کے معنے ہیں سلم سے چمڑے کی دباغت کر دی (اقرب)اور دباغت بھی چمڑے کو گلنے سے بچانے کے لئے کرتے ہیں۔پس اس میں بھی حفاظت کے معنے شامل ہیں۔اسی طرح کہتے ہیں سَالَمَہٗ جس کے معنے ہوتے ہیں اس سے مصالحت کی اور صلح کرنے میں بھی حفاظت مدنظر ہوتی ہے۔اسی طرح کہتے ہیں تَسَلَّمَ الشَّیْئَ فلاں چیز کو اُس نے پکڑ لیا اور اُس پر قبضہ کر لیا اور جب کوئی چیز قبضہ میں آجاتی ہے تو وہ بھی حفاظت میں ہو جاتی ہے۔اسی طرح اِسْتَلَمَ الزَّرْعُ کا محاورہ ہے جس کے معنے ہیں۔کھیتی نے استیلام کیا۔یعنی کھیتی میں دانہ پڑ گیا۔اس میں بھی حفاظت کے معنے ہیں کیونکہ جب تک کھیتی میں دانہ نہ پڑے اُس وقت تک کسان اُس پر مطمئن نہیں ہوتا۔اور جب دانہ پڑ جائے تو پھر ایک حد تک وہ اُسے محفوظ خیال کرتا ہے۔پھر سَلَامٌ خدا کا نام ہے جو ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک ہے۔پھر اشتقاق کے لحاظ سے آگے چلیں تو اشقاق کبیر میں سَلْم کا لفظ سَمَلْ بن جائےگا جس کے معنے صلح کرانے اور حوض سے گند نکال کر صاف کرنے کے ہیں۔لَمْسٌ چھُونے کو کہتے ہیں۔اس میں بھی حفاظت کے معنے شامل ہیں کیونکہ وہ تمام باتیں جن کو انسان محفوظ کرتا ہے اپنے حواس سے ہی کرتا ہے جن میں سے ایک لمس بھی ہے۔پھر مَسَلَ الْمَائُ کے معنے ہوتے ہیں پانی بہ پڑا۔جب