تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 239

ہیں کہ منافقت کے بغیر گذارہ نہیں۔جب ایک قوم دوسری قوم کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔جب اس کی ساری قوتیں دوسری قوم پر حملہ کرنے کے لئے مجتمع ہو رہی ہوتی ہیں۔جب اس کے سارے محکمے اپنے کیل کانٹے درست کر رہے ہوتے ہیں اُس وقت دنیا دار حکومتیں بڑے زور سے یہ اعلان کرتی سنائی دیتی ہیں کہ ہمارے تعلقات اس حکومت سے بڑے اچھے ہیں اور جب وہ جنگ کا فیصلہ کر چکی ہوتی ہیں۔اُن کے مدبر بڑے زور شور سے یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم صلح کے لئے ہر ممکن تدابیر اختیار کر یں گے۔مگر اُن کی غرض ان اعلانات سے یہ ہوتی ہے کہ اگر ہمارا دشمن بیوقوف بنایا جا سکے تو اُسے بیوقوف بنائیں۔اس کے مقابلہ میں اُن کا دشمن بھی اسی طرح کر رہا ہوتا ہے جس طرح وہ کر رہے ہوتے ہیں۔وہ بھی دھوکا اور فریب اور جھوٹ استعمال کر رہا ہوتا ہے۔مگر دین کے ساتھ تعلق رکھنے والی جماعتوں کو اس قسم کا طریق اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔انہیں اگر کہا جاتا ہے تو یہ کہ تمہیں اچانک حملہ کرنے کی اجازت نہیں اور اگر تمہارا کسی قوم کے ساتھ معاہدہ ہے اور تم دیکھتے ہو کہ دوسرا فریق اس معاہد ہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو ایک لمبا عرصہ قبل یہ اعلان کر دو کہ ہمارا تمہارا معاہدہ ختم ہے اس کے بعد اگر تم چاہو تو دوسری قوم سے لڑ سکتے ہو۔پس دینی قوموں کے لئے مشکلات بہت زیادہ ہوتی ہیں کیونکہ جن تدابیر کو دنیا اختیار کر سکتی ہے اُن کو وہ تدابیر اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔اس لئے عقلی طور پر کوئی ایسا قائم مقام ہو نا چاہیے جو جھوٹ اور فریب اور دغا کے مقابلہ میں نیکوں کا سہارا ہو۔اس سہارے کا اللہ تعالیٰ نے اِن آیات میں ذکر کیا ہے۔فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا اے مومنو! تم رکوع کرو۔رکوع سے مراد اس جگہ نماز والا رکوع نہیں بلکہ رکوع کے معنے نماز کے علاوہ بھی ہوتے ہیں۔اور وہ معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کی توحید پر کامل ایمان رکھتے ہوئے اُس کی طرف جھک جانا۔اور ماسوی اللہ کا خیال اپنے دل سے بکلی نکال دینا گویا کامل توحید کے خیالات دل میں پیدا کر لینا اور ماسوی کی عبادت اُس پر انحصار اور توکل اور امید کا دل سے خیال نکال دینا۔اس کا نام عربی زبان میں رکوع ہے۔چنانچہ عربی زبان کا محاورہ ہے کہ فُلَانٌ رَکَعَ اِلَی اللّٰہِ۔فلاں شخص ہر ایک دنیوی چیز کا خیال دل سے نکال کر خدا تعالیٰ کی طرف جھک گیا۔پس اس جگہ رکوع سے مراد وہ رکوع نہیں جو نماز میں کیا جاتا ہے کیونکہ وہ رکوع ہم علیحدہ نہیں کرتے بلکہ نماز کا ایک حصہ ہوتا ہے۔خالی رکوع اسلام میں کہیں ثابت نہیں اور خالی سجدہ اسلام میں شکریہ یا تلاوت قرآن کریم کے سوا عبادت کے طور پر ثابت نہیں۔بلکہ خالی سجدہ تو دُعا کے موقعہ پر کر بھی لیا جاتا ہے۔خالی رکوع کا رسماً بھی اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔پس رکوع سے مراد یہاں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر جھک جانا نہیں بلکہ ماسوی اللہ کا خیال اپنے دل سے نکا ل کر کا مل توحید پر ایمان رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کا نام رکوع