تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 240
رکھا گیا ہے۔یہ گویا مومن کے لئے ان چیزوں کا قائم مقام ہو جاتا ہے جن کو چھوڑ نے کا اُسے حکم ہے۔رکوع کا لفظ اصل میں اسی لئے استعمال کیا گیا ہے کہ رکوع میں ایک چیز ٹیڑھی ہو جاتی ہے اور سہارا ہمیشہ ٹیڑھا ہو کر لیا جاتا ہے۔جو شخص سیدھا کھڑا ہوگا وہ سہارا نہیں لے سکتا اور اگر وہ سہارا لینا چاہےگا تو اُسی وقت لے سکے گا جب وہ ٹیڑھا ہوگا۔تو وَارْكَعُوْا کے معنے دراصل خدا تعالیٰ پر سہارا لینا اور اُس کے اُوپر جھک جانا ہے۔جھوٹ فریب اور منافقت یہ دُنیا کے سہارے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو بڑے گندے سہارے ہیں ان کو چھوڑ و اور ان کے قریب بھی مت پھٹکو۔جب دنیا کے سہارے ایک انسان سے لے لئے جائیں تو لازماً وہ کسی اور سہارے کا محتاج ہو گا۔کیونکہ انسان سخت کمزور اور بے بس ہے۔ایک کمزور انسان جو بیمار بھی ہو کرچز CRUTCHESپر چلتا ہے یا کھڑا ہوتا ہے تو دیوار کی ٹیک لگا لیتا ہے۔یا دم لینے کے لئے کرسی پر جا بیٹھتا ہے یا اگر لیٹے لیٹے سر اٹھاتا ہے تو کہنی کا سہارا لے لیتا ہے۔یا گائوتکیہ اپنے پیچھے رکھ لیتا ہے۔تو کمزور ی اور بیماری کے وقت انسان کو دوسری چیزوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے چونکہ انسان عالمِ روحانی میں سخت کمزور ہے اور ہزاروں خفیہ باتیں ایسی پید ا ہو جاتی ہیں جو اس کی ترقی کی راہ میں روک بن کر حائل ہو جاتی ہیں۔اس لئے اس عالم میں بھی وہ کسی نہ کسی سہارے کا محتاج ہوتا ہے۔دنیا دار شخص ایسے موقعہ پر دغا ، فریب ، جھوٹ اور مکاری کا سہارا لیتا ہے مگر مومنوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان امور سے بچو۔تم نہ فریب سے کام لو نہ جھوٹ سے کام لو ، نہ دھوکا سے کام لو اور نہ کسی ناجائز ہتھیار کو استعمال کرو۔اب جبکہ ایک کمزور انسان کے تمام دنیوی سہارے شریعت نے لے لئے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا کرے۔سہارا تو ایک کمزور انسان کے لئے ضروری تھا اور اس سے سہارے کو لے لینا ایسا ہی ہے جیسے ایک لُنجے کی سوٹیاں لے لی جائیں یا بیمار کے نیچے سے گائوتکیہ نکال لیا جائے۔یا ایک کمزور انسان جب کرسی پر بیٹھنے لگے تو اُس کے نیچے سے کرسی کھینچ لی جائے۔ایسی حالت میں اُسے لازمًا کسی اور سہارے کی ضرورت پیش آئے گی اور وہ کہے گا میں کس پر سہارا لُوں میں تو گر جائوںگا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کا جواب دیا ہے۔فرماتا ہے ارْكَعُوْا تم ہمارے اوپر سہارا لے لو۔اور ہم پر جھک جائو۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی انسان دوسرے کمزور انسان کی سونٹی تو لے لے مگر اپنا کندھا اُس کے سامنے پیش کر دے اور کہے کہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چلو۔اسی طرح جب ناجائز ہتھیاروں اور ناجائز سہاروں سے اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا تو فرمایا۔چونکہ تمہیں کسی نہ کسی سہارے کی ضرورت ہے۔اس لئے ہم تمہیں کہتے ہیں تم ہم پر جھک جائو۔اور ہمارا سہارا لے لو۔تو اِرْكَعُوْا کا لفظ توکل علی اللہ پر دلالت کرتا ہے اور اس میں یہ سبق سکھایا گیا ہے کہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل کرنا چاہیے اور سمجھ لینا چاہیے کہ میرے کاموں میں جو