تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 238
محتاج ہو گیا ( یہ مجازی معنے ہیں ) اور رَکَعَ الْمُصَلِّیْ فِیْ الصَّلٰوۃ ِ رُکُوْعًا کے معنے ہیں۔خَفَضَ رَأسَہٗ بَعْدَ قَوْمَۃِ الْقِرَاءَۃِ حَتّٰی تَنَالَ رَاحَتَا ہُ رُکْبَتَیْہِ اَوْ حَتّٰی یَطْمَئِنَّ ظَھْرُہٗ نمازی نے قرأت کے بعد گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کمر کو جھکا یا نیز لکھا ہے الرَّاکِعُ: کُلُّ شَيْءٍ یَخْفِضُ رَأْسَہٗ۔ہر وہ چیز جس کا سر نیچے کی طرف جھکا ہو ا ہو اُس کے لئے راکع کا لفظ استعمال کرتے ہیں ( اقرب) تاج العروس میں ہے۔امام ثعلب کہتے ہیں اَلرُّکُوْعُ : اَلْخُضُوْعُ یعنی رکوع کے معنے عاجزی کرنے کے ہوتے ہیں۔وَکَانَتِ الْعَرَبُ فِی الْجَاھَلِیَّۃِ تُسَمِّی الْحَنِیْفَ رَاکِعًا اِذَا لَمْ یَعْبُدِ الْاَوْثَانَ وَیَقُوْلُوْنَ رَکَعَ اِلَی اللّٰہِ۔اور عرب لوگ قبل اسلام موحدین کو راکع کہتے تھے کیونکہ وہ بتوں کی پوجا نہ کرتے تھے اور اُن کے لئے راکع کا لفظ اس لئے استعمال کرتے تھے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کی تھی اور اس کے سامنے عاجزی اختیار کی تھی۔الغرض رَکَعَ کے لفظ کے اندر عاجزی اور تذلل کے معنے پائے جاتے ہیں۔پس رَاکِعٌ کے معنے ہوںگے ( ۱) عاجزی کرنےوالا ( ۲) اللہ تعالیٰ کی خالص پرستش کرنے والا۔اور اِرْکَعُوْ ا کے معنے ہوںگے ( ۱) تم عاجزی کر و( ۲) اللہ تعالیٰ کی خالص پرستش کرو۔اور توحید پر پوری طرح قائم ہو جائو۔اُسْجُدُوْا۔اُسْجُدُوْا سَجَدَ کے معنے ہیں خَضَعَ وَاِنْحَنٰی اُس نے عاجزی اختیار کی اور اپنے عجز کا اظہار کر نے کے لئے جھُک گیا۔اور سَجَدَ الْبَعِیْرُ کے معنے ہوتے ہیں خَفَضَ رَأسَہٗ اونٹ نے اپنا سر نیچے کر لیا اور سَجَدَتِ السَّفِیْنَۃُ لِلرِّیَاحَ کے معنے ہوتے ہیں طَاعَتْھَا وَمَالَتْ بِمَیْلِھَا۔کشتی نے ہوا کی پیروی کی اور اُسے جدھر ہوا لے گئی اُدھر چل پڑی۔اسی طرح اہل عرب کہتے ہیں کہ فُلاَنٌ سَاجِدُ الْمُنْخَرِ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ ذَلِیْلٌ خَاضِعٌ۔فلاں شخص نہایت مطیع ہے اور عجز و انکسا ر کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے ( اقرب) پس اُسْجُدُوْا کے معنے یہ ہوںگے کہ تم اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت اور فرمانبرداری کرو۔تفسیر۔ان آیات میں مومنوں کو ان فرائض کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جو الٰہی جماعتوں کو کامیاب بنانے میں ممد ہوتے ہیں۔اور جن کے بغیر غلبہ کا حصول ناممکن ہوتا ہے۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ دنیوی جماعتوں کا طریق کار بالکل علیٰحدہ ہوتا ہے اور اُن پر دینی جماعتوں کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔دنیوی جماعتوں کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ وہ سچ سے کام لیں۔وہ جھوٹ ، فریب اور دغا بازی سے کام لیتی ہیں اور اس طرح ہر ممکن ذریعہ سے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔مگر یہ ہتھیار جو عام طور پر دنیا میں کامیابی کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں دین میں ان کو بالکل حرام قرار دیا گیا ہے۔دنیوی امور میں لوگ جھوٹ سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جھوٹ کے بغیر گذارہ