تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 234

اسی طرح اس کے معنے ہیں۔اَلْبَعُوْضُ بِاَ نْوَاعِہٖ۔یعنی ہر قسم کا مچھر۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ اللہ تعالیٰ ایک نہایت زبردست دلیل شرک کے رد میں اور مشرکوں کی تباہی کی تائید میں پیش کرتا ہے۔فرماتا ہے کہ خدا کے سوا جو معبود ہیں انہوں نے تو کبھی ایک مکھی بھی پیدا نہیں کی بلکہ اگر سب کے سب معبود جمع ہو جائیں تب بھی وہ ایک مکھی تک پیدا نہیں کر سکتے۔اور اگر مکھی اُن کے کھانے میں سے کچھ اُٹھا کر لے جائے تو وہ واپس بھی نہیں لے سکتے۔پس عبادت کرنے والا اور معبود دونوں ہی کتنے کمزور ہیں۔اس آیت کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کا یہ کہنا نہایت تعجب انگیز ہے کہ حضرت مسیح ؑپرندے پیدا کیا کرتے تھے۔قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ سارے معبود مل کر ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے۔اور ہمارے مفسر فرماتے ہیں کہ اکیلے مسیح ؑ نے بہت سے پرندے پیدا کئے تھے۔بانی سلسلہ احمدیہ نے ایک دفعہ ایک مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ جو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ؑ پرندے پیدا کیا کرتے تھے ،تو جو پرندے ہمیں دنیا میں نظر آتے ہیں اُن میں سے کچھ خدا تعالیٰ کے پیدا کئے ہوںگے اور کچھ مسیح ؑ کے۔کیا آپ ان دونوں میں کوئی امتیازی بات بتا سکتے ہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ کون سے خدا کے پیدا کردہ ہیں اور کون سے مسیح ؑ کے۔اس پر وہ مولوی صاحب پنجابی میں بولے ’’ اے تے ہُن مشکل ہے۔اوہ دونوں رَل مِل گئے نے ‘‘ یعنی یہ کام تو اب مشکل ہے۔خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ پرندے اور مسیح ؑ کے پیدا کردہ پرندے آپس میں مِل جُل گئے ہیں۔اور اب ان دونوں میں امتیاز مشکل ہے۔مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ۰۰۷۵ ان لوگوں نے اللہ( تعالیٰ کی صفات )کا صحیح اندازہ نہیں لگا یا۔اللہ( تعالیٰ) تو یقیناً بڑی طاقت والا (اور) بڑا غالب ہے۔حل لغات۔قَدَرَ اللّٰہَ قَدَرَ اللہَ کے معنے ہیں عَظَّمَہٗ۔اللہ تعالیٰ کی عظمت بیان کی ( اقرب ) تفسیر۔فرماتا ہے۔جو لوگ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کر تے ہیں انہوں نے خدائی صفات کا کبھی پورا اندازہ نہیں کیا۔اور یہی وجہ اُن کے ٹھوکر کھانے کی ہے چنانچہ دیکھ لو جو لوگ خدا تعالیٰ کی توحید کے قائل نہیں یا وہ لوگ جو بعض اور ذرائع کو بیچ میں لانا چاہتے ہیں اُن کے اس عقیدہ کی نبیاد ہی اس امر پر ہے کہ ان کا دماغ یہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ ایک ایسی ہستی بھی ہے جو سب دنیا کو دیکھ رہی ہے اور سب لوگوں کی آوازوں کو سُن رہی ہے۔