تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 235

وہ خیال کرتے ہیں کہ بعض ایسے درمیانی واسطوں کی ضرورت ہے جن میں خدائی طاقتیں تقسیم ہوں اور جو اپنی اپنی جگہ اُن طاقتوں کو استعمال کر رہے ہوں اس دھوکا کی بڑی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ اپنی طاقتوں کے لحاظ سے کیا۔اور خدائی طاقتوں کا انسانی طاقتوں پر قیاس کر لیا انہوں نے دیکھا کہ انسان جب ایک طرف نگا ہ کرتے ہیں تو دوسری طرف کی چیزیں انہیں نظر نہیں آتیں۔پس انہوں نے خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ کی نظر بھی محدود ہے۔پھرجب انسانوں نے دیکھا کہ ہم ہر جگہ کی آواز ایک وقت میں نہیں سُن سکتے تو خیال کر لیا کہ خدا تعالیٰ بھی ہر جگہ کی آواز ایک وقت میں نہیں سن سکتا۔غرض انسانی طاقتوں پر خدائی طاقتوں کا جب انہوں نے قیاس کیا تو انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ خدا تعالیٰ کے بعض شریک مقرر کریں۔اسی خیال کے نتیجے میں بعض فلسفیوں کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو کلی علم ہے۔جزئی نہیں۔یعنی اُسے یہ تو پتہ ہے کہ انسان روٹی کھایا کرتا ہے مگر اُسے یہ پتہ نہیں کہ زیداس وقت روٹی کھا رہا ہے۔اُسے یہ تو علم ہے کہ انسانوں کے گھروں میں بچے پیدا ہوا کرتے ہیں مگر اُسے یہ علم نہیں کہ اس وقت زید یا بکر کے گھر میں بچہ پیدا ہورہا ہے۔اب اس خیال کی نبیاد اسی امر پر ہے کہ انسان اپنی محدود طاقتوںسے خدا تعالیٰ کی طاقتوں کا اندازہ لگا تا ہے۔مگر آج دیکھو وہ کمزور انسان جو خدا تعالیٰ کی طاقتوں کو گِرا رہے تھے انہیں خدا نے کہا کہ تم ہماری طاقتوں کا تو اندازہ ہی نہیں لگا سکتے آئو میں تمہاری اپنی طاقتوں کو اُبھارتا ہوں اور تمہیں بتا تا ہوں کہ تم اپنی آواز کو کہاں کہاں تک پہنچا سکتے ہو۔اور تم کتنی دُور دُور کی آواز بخوبی سُن سکتے ہو۔چنانچہ اُس نے وائر لیس ایجاد کروا کے بتا دیا کہ جب تمہاری جیسی ذلیل اور حقیر ہستی ساری دنیا کی آوازیں وائر لیس کے ذریعہ سُن سکتی اور ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچا سکتی ہے تو کیا وہ خدا جو تم کو پیدا کرنے والا ہے وہ تمہاری آواز یں نہیں سُن سکتا ؟آج جب انگلستان کا ایک ڈوم یا میراثی یا ایک گانے والی کنچنی ساری دُنیا میں اپنی آواز پہنچا رہی ہوتی ہے تو فضا کی ہر حرکت اور آواز کی ہر جنبش یورپ کے فلسفیوں پر قہقے لگا رہی ہوتی ہے اور کہتی ہے کمبختو ! اب بتا ئو کیا خدا تعالیٰ ساری دنیا کی آوازیں نہیں سُن سکتا ؟ اسی طرح اب بڑی بڑی دُور بینیں نکل چکی ہیں جن سے لاکھوں میل دور کے سیاروں کی حرکات کا بھی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے اور اب تو وائر لیس نے ترقی کرتے کرتے یہ صورت اختیار کر لی ہے کہ شکلیں بھی دُور دُور تک دکھا دی جاتی ہیں غرض وہ جو واہمہ پیدا ہو گیا تھا کہ خدا کس طرح ساری دنیا کو دیکھ سکتا ہے اور کس طرح ساری دنیا کی آوازیں سُن سکتا ہے اس ترقی نے اسے دُور کر دیا اور بتا دیا کہ جب معمولی انسان میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی قابلیت رکھی ہے کہ وہ اپنی آواز تمام دنیا کو سنا سکتا ہے اور دنیا کے دوسرے کنارے کے آدمی کی بات کو با ٓسانی سن سکتا ہے اور نہ صرف آواز سن سکتا ہے بلکہ اُس کی شکل بھی دیکھ سکتا ہے تو کیا خدائے ذوالجلال جس