تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 233

باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۃ حنین)پس مخالفتوں پر صبر اور دُعائوں سے کام لینا چاہیے۔اور مایوسی کو کبھی اپنے قریب بھی بھٹکنے نہیں دینا چاہیے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو باوجود اس کے کہ مکہ والوں نے آپ کا مقابلہ کیا اور آپ کی تعلیم پر ہنسی اُڑائی پھر بھی آپ مایوس نہیں ہوئے۔بلکہ آپ نے تبلیغ کے کام کو برابر جاری رکھا۔آپ کا طریق تھا کہ جہاں بھی آپ کو کچھ آدمی اکٹھے بیٹھے نظر آتے آپ اُن کے پاس پہنچ جاتے اور فرماتے کہ اگر آپ لوگ اجازت دیں تو مَیں آپ کو کچھ خدا کی باتیں سُنا ئوں۔چونکہ مکہ والوں نے لوگوں میں یہ مشہور کر رکھا تھا کہ یہ شخص نعوذ باللہ پاگل ہو گیا ہے اس لئے جب آپ اُن کے پاس جاتے تو وہ ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے کہتے کہ یہ پاگل ہے اور آہستہ آہستہ وہاں سے کھِسک جاتے۔کئی لوگ آپ کے سر پر مٹی ڈال دیتے۔کئی آپ سے تمسخر اور استہزا ء سے پیش آتے۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ذکر ما لقی رسول اللہ من قومہ)مگر آپ برابر رات اور دن اُن کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں مصروف رہے اور آخر اُنہی میں سے ایسے لوگ پیدا ہوگئے جنہوں نے اسلام کے لئے اپنی جانیں تک قربان کر دیں۔پس استقلال کے ساتھ تبلیغ میں مشغول رہنا اور دعائوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی مدد اور اُس کی نصرت کو کھینچنا یہی کامیابی کا ذریعہ ہوتا ہے۔جب تک کسی قوم میں اس قسم کی دیوانگی پیدا نہ ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ اے لوگو! ایک بات تمہیں بتائی جاتی ہے تم اُسے غور سے سُنو۔تم جن کو اللہ (تعالیٰ) کے سوا پکارتے ہو وہ ایک تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا مکھی بھی پیدا نہیں کر سکیں گے خواہ سب کے سب جمع ہو جائیں بلکہ اگر ایک مکھی اُن کے آگے سے کوئی چیز لَهٗ١ؕ وَ اِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْـًٔا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُ۠ اُچک کر لے جائے تو وہ اُس چیز کو( بھی) چھڑا نہیں سکتے۔یہ دعائیں مانگنے والا (بھی) اور جس سے دعائیں مانگی مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ۰۰۷۴ جاتی ہیں( وہ بھی) کتنے کمزور ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلذُّبَابُ اَلذُّبَابُکے معنے مکھی کے ہیں۔یہ لفظ شہد کی مکھی اور بِھڑوں پر بھی بولا جاتا ہے۔