تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 232
کیونکہ دلائل وبراہین اور عقل و نقل کے میدان میں اُن کا عجز ظاہر ہوتا ہے۔و ہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان لوگوں پر دلیل کے ساتھ تو غالب نہیں آسکتے۔ہمارے غلبہ کی ایک ہی صورت ہے کہ ہم ڈنڈا اٹھا لیں۔اور ان لوگوں کا سر پھوڑنا شروع کر دیں جو ہمیں اپنے عقائد سے منحرف کرنا چاہتے ہیں۔مگر مومن اُن کے مظالم پر صبر سے کام لیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہی سُنت ہے کہ وہ اپنے بندوں کو پہلے ابتلائوں کے دریائوں میں سے گذارتا ہے اور پھر انہیں اپنے قرب سے نوازتا ہے۔آج تک دُنیا میں کوئی نبی بھی ایسا نہیں آیا جس کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے سخت سے سخت ابتلائوں میں ڈال کر اس کا امتحان نہ لیا ہو۔یا مصائب کی بھٹی میں ڈال کر اُسے صاف نہ کیا ہو۔جب اللہ تعالیٰ کے بندوں نے اپنے خون سے یا اپنے مال اور اپنے وطن اور اپنے عزیز و اقرباء کی قربانی سے اپنے صدق پر مہر لگائی تب انہیں خدا تعالیٰ کے حضور عزت بخشی گئی۔اور وہ دنیا میں بھی کامیاب ہوئے اور آخرت میں بھی انہیں بلند درجات عطا کئے گئے۔پس مخالفین کی اذیتوں سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ صبر اور برداشت سے کام لیتے ہوئے دعائوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنی چاہیے۔تمام دل اللہ تعالیٰ کے قبضہ و تصرف میں ہیں اور وہ جب چاہے اُن کو ہدایت دے سکتا ہے۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ غزوۂ حنین میں مکّہ کا ایک مخالف شخص جس کا نام شیبہ تھا مسلمانوں کی طرف سے اس ارادہ کے ساتھ جنگ میں شامل ہو گیا کہ جب دونوں لشکر آپس میں ملیں گے تو میں موقعہ پا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دوںگا جب لڑائی تیز ہوئی اور دشمنوں کی تیر اندازی کی وجہ سے اسلام لشکر میں بھاگڑ مچ گئی اور ایک وقت ایسا آیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف چند صحابہ ؓ رہ گئے تو شیبہ نے تلوار کھینچی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہونا شروع کیا وہ خود کہتا ہے کہ جب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرے اور آپ کے درمیان آگ کا ایک شعلہ بھڑک رہا ہے اور اگر میں اور قریب ہوا تو وہ شعلہ مجھے بھسم کر کے رکھ دےگا اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا شیبہ اِدھر آئو۔جب میں آپ کے قریب گیا تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینہ پر پھیرا اورفرمایا۔اے خدا! شیبہ کو ہر قسم کے شیطانی خیالات سے نجات عطا فرما وہ کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پھیرنا تھا کہ خدا کی قسم میرے دل سے آپ کی ساری دشمنی اور عداوت جاتی رہی اور میرا دل آپ کی محبت سے بھر گیا۔پھر آپ نے فرمایا شیبہ اَب آگے بڑھو اور دشمن سے لڑو۔تب میں آگے بڑھا اور میں نے دشمن سے لڑنا شروع کر دیا میرے دل میں اُس وقت سوائے اس کے اور کوئی خواہش نہیں تھی کہ میں اپنی جان قربان کر کے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچائوں اور خدا کی قسم اگر اُس وقت میراباپ بھی زندہ ہوتا اور وہ میرے سامنے آجاتا تو میں اس کا سر اتارنے سے بھی دریغ نہ کرتا۔(السیرۃ الحلبیۃ