تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 227

تسلیم کرتے ہیں کہ چھوٹی چیز کو بڑی چیز کے لئے قربان کر دینا چاہیے۔مگر اس اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اس مخصوص واقعہ کو دیکھا جائے تو اس میں اُس شخص کا ایمان بچا نا بڑا کام تھا اور بیوی کے مونہہ سے نقاب اُلٹ دینا چھوٹی بات تھی۔کہنے لگا کس طرح ؟ میں نے کہا یہ تو تم جانتے ہو کہ پردہ کا حکم پہلی شریعتوں میں نہیں تھا۔اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ پردہ کا حکم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری سالوں میں نازل ہوا ہے۔تیرہ سال تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ میں رہے اور پردہ کا حکم نازل نہ ہواپھر مدینہ تشریف لائے تو وہاں بھی چار پانچ سال تک پردہ کا حکم نہیں اُترا۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوٰئے نبوت کے بعدجو تیٔیس سالہ زندگی گذری ہے اُس میں سے سترہ اٹھارہ سال تک آپ کی بیویوں نے پردہ نہیں کیا۔اور جب پردہ کاحکم مدینہ آنے کے بھی چار پانچ سال بعد نازل ہوا ہے تو تمہیں یہ ماننا پڑےگا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بیوی کو قریباً ہر صحابی نے دیکھا ہوا تھا۔اب بتائو جس بیوی کو وہ سو دفعہ پہلے دیکھ چکا تھا اگر ایک موقعہ پر اُس کا ایمان بچانے کے لئے آپ نے اپنی اُس بیوی کا نقاب اٹھا دیا تو اس میں کیا حرج ہوا۔وہ آپ کی بیویوں کو جوانی کی حالت میں دیکھ چکا تھا۔اور اب تو وہ بڑی عمر کی ہو چکی تھیں اس عمر میں اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی کے مونہہ سے نقاب اُلٹ دیا تو چاہے وہ کتنا ہی کمزور ایمان والا شخص ہو اس کے ایمان کو بچانے کے لئے آپ کا تھوڑی دیر کے لئے نقاب اُلٹ دینا بالکل بے حقیقت بات تھی کیونکہ اُس بیوی کو اُس نے جوانی کی حالت میں بھی دیکھا ہوا تھا اور اب وہ بڑی عمر کی ہو چکی تھیں۔جوانی میں سو دفعہ دیکھنے والے شخص کے سامنے اگر آپ نے بڑی عمر میں اپنی ایک بیوی کے مونہہ سے اُس کا ایمان بچانے کے لئے تھوڑی دیر کے لئے پردہ اٹھا دیا تو آپ نے بڑی چیز کو چھوٹی چیز پر قربان نہیں کیا بلکہ چھوٹی چیز کوبڑی چیز کے لئے قربان کیا۔اس جواب سے وہ خوش ہو گیا اور کہنے لگا اب میری سمجھ میں یہ بات آگئی ہے۔اب غور کرو یہ کتنا بڑا تغیر ہے کہ یا تو یہ کہا جاتا تھا کہ چونکہ اسلام پردہ کا حکم دیتا ہے اس لئے جھوٹا ہے۔اور یا یہ کہا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت ایک شخص کا ایمان بچانے کے لئے اپنی بیوی کے مونہہ پر سے ایک منٹ کے لئے بھی نقاب کیوں اُتارا؟ ڈسمنڈشا انگلستان کے بہترین مصنفوں میں سے ہے کم ازکم وہ خود اپنے آ پ کو ایچ۔جی ویلز سے بھی بڑا سمجھتا ہے۔وہ مجھے ملا تو کہنے لگا کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ امن پھیلانے والا جو نبی آیا اُس کو لڑائی کرنے والا نبی کہا جاتا ہے اور پادری اُس پر اعتراض کرتے ہیں۔پھر وہ کہنے لگا شاید آپ مجھے پاگل قرار دیں گے کہ عیسائی ہو کر مَیں ایسی باتیں کرتا ہوں۔یہ ٹھیک ہے کہ میں عیسائی ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسیح ناصری سے بڑے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم