تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 226

عورت ایسی دکھا سکتا ہوں جو ا س بات کے لئے تیار ہے کہ مرد اگر انصاف سے کام لیں تو بیشک وہ کئی شادیاں کر لیں۔مگر مشکل یہ ہے کہ ہمارے ملک میں اخلاق اتنے بگڑ چکے ہیں کہ اچھے خاوند میسر نہیں آتے۔اب دیکھو یہ کتنا بڑا تغّیر ہے جو ان میں پیدا ہو رہا ہے۔اسی طرح کئی لوگ مجھے ملے جنہوں نے کہا کہ ہم نے بیس بیس تیس تیس سال سے شراب نہیں پی کیونکہ ہم اسے بُرا سمجھتے ہیں۔اسی طرح پہلے پردہ پر اعتراض کیا جا تا تھا مگر اب خود یورپ میں ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو پردہ کی ضرورت کو تسلیم کر تے ہیں۔بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جب میں یورپ گیا تو وہی میوزیشن جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے اُس نے مجھ سے کہا کہ میں نے آپ کا دیباچہ تفسیر القرآن پڑھا ہے جس سے میرے دل میں ایک شبہ پیدا ہو ا ہے۔میں نے کہا فرمائیے کیا شبہ پیدا ہوا ہے۔کہنے لگا اس کتاب میں آپ نے لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں عبادت کے لئے بیٹھے تھے کہ آپ کی ایک بیوی آپ سے ملنے کے لئے آگئیں چونکہ واپسی کے وقت رات ہوگئی تھی اس لئے آپ اپنی بیوی کو گھر پہنچانے کے لئے ساتھ چل پڑے۔راستہ میں آپ کو ایک آدمی ملا اُسے دیکھ کر آپ کو شبہ ہوا کہ کہیں اسے ٹھوکر نہ لگ جائے اور یہ خیال نہ کرے کہ مَیں کسی اور کو ساتھ لئے جا رہا ہوں۔چنانچہ آپ نے اپنی بیوی کے مُنہ پر سے نقاب اٹھا دی اور اُسے کہا کہ دیکھ لو یہ میری بیوی ہے ( بخاری کتاب الاعتکاف باب ھل تخرج المعتکف لحوائجہ الی باب المسجد) وہ کہنے لگا جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میرے دل میں اعتراض پیدا ہوا کہ پرد ہ تو اسلام کے نہایت اعلیٰ درجہ کے حکموں میں سے ایک حکم ہے۔اور یہ پاکیزگی کی جان ہے۔اگر کوئی بد بخت شخص ایسا تھا جس کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پچاس ساٹھ سالہ زندگی کو دیکھ کر بھی شبہ پیدا ہوا تو وہ بیشک جہنم میں جاتا۔اس کی کیا حیثیت تھی کہ محض اس کا ایمان بچانے کے لئے اپنی ایک بیوی کے مُنہ پر سے پردہ اٹھا دیا جاتا۔جس شخص نے اتنی مدت دراز تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات کو دیکھا آپ کی قربانیوں کو دیکھا۔آپ کے ایمان کو دیکھا آپ کے اخلاص کو دیکھا آپ کی محبت الٰہی کو دیکھا اور پھر بھی اس کے دل میں شبہ پیدا ۂوا۔وہ بدبخت اگر مرتا تھا تو بے شک مرتا اس کے لئے کیا ضرورت تھی کہ آپ اپنی کسی بیوی کے مُنہ پر سے نقاب اُٹھا دیتے۔مَیں نے اُسے کہا آخر آپ کو یہی اعتراض ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹی چیز کے لئے بڑی چیز کو کیوں قربان کر دیا۔بیشک اُس کا ایمان بھی ایک قیمتی چیز تھی مگر بہرحال وہ ایک کمزور انسان کا ایمان تھا کیونکہ اُس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزگی پر شک کیا اُس شخص کے ایمان کے بچانے کے لئے اپنی ایک بیوی کا پردہ اُٹھا دینا ایک بڑی چیز کو چھوٹی چیز کے لئے قربان کر دینا ہے۔کہنے لگا ہاں میرے دل میں یہی شبہ پیدا ہوا ہے۔مَیں نے کہا تو پھر اس کے معنے یہ ہیں کہ آپ