تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 214
مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْۤ اُمْنِيَّتِهٖ (الحج:۵۳) پھر اس سے بھی اوپر چلیں تو یہ آیت نظر آئے گی کہ اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ(الحج:۴۰) اور پھر اس سے بھی پہلے یہ آیت آتی ہے کہ اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ (الحج:۳۹)۔ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ گذشتہ دو رکوعوں سے جنگ کا ذکر چلا آرہا ہے اور یہ بتایا جا رہا ہےکہ جنگ میں چاہے سچائی کی تائید کرنے والے لوگوں کی تعداد کتنی بھی کم ہو پھر بھی وہ جیتیں گے۔پس جنگ کے اس پہلو کو بھی بیان کرنا ضروری تھا کہ کفار میں اگر اَور جوش پیدا ہو ا تو کیا بنے گا۔پس یہ آیت بے تعلق نہیں بلکہ سابق مضمون کے تسلسل میں بیان کی گئی ہے۔ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُوْلِجُ النَّهَارَ یہ( سزا و جزاکا سلسلہ )اس لئے چلتا ہے کہ ثابت ہو کہ اللہ( تعالیٰ) رات کو دن میں داخل کر دیتا ہے اور دن کو رات فِي الَّيْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ۰۰۶۲ میں داخل کر دیتا ہے۔اور اللہ( تعالیٰ) یقیناًبہت دعائیں سُننے والا (اور) بہت حالات دیکھنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔یُوْلِجُ۔یُوْلِجُ اَوْلَجَ سے مضارع کا صیغہ ہے اور اَوْلَجَہٗ کے معنے ہیں اَدْخَلَہٗ اس کو داخل کیا (اقرب ) پس یُوْلِجُ کے معنے ہوںگے وہ داخل کرتا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے اپنی مصیبتوں اور دشمن کی ترقی سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ دنیا کی تاریخ سے معلو م ہو تا ہے کہ ترقی یافتہ قومیں ایک دن گر جاتی ہیں اور گِری ہوئی قومیں ایک دن بڑ ھ جاتی ہیں۔پس اگر آج تمہارے دشمن کی باری ہے تو کل تمہاری بار ی ہوگی۔دوسرے یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دعائیں سُنتا ہے اور اپنے بندوں کے حالات دیکھ رہا ہے۔اس جگہ نور کے بعد ظلمت اور ظلمت کے بعد نور سے اچھی حالت کے بعد تکلیف کی حالت اور دُکھ کے بعد سُکھ کی حالت پیداکرنا مراد ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ نظامِ عالم سے بےد خل نہیں بلکہ وہ مظلوم کا ساتھ دیتا اور اس کے لئے اپنی قدرت اور جلال کو ظاہر کرتا ہے پس مسلمانوں کے لئے مایوسی کی کوئی وجہ نہیں۔وہ ان کی ضرور مدد کرےگا اور ان کے لئے ترقی کے راستے کھول دےگا۔