تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 213
ان کو رزق دے گا۔اس کے صرف یہی معنے نہیں ہیں کہ جنت میں اُن کو رزق ملے گا کیونکہ دشمن کہہ سکتا ہے کہ نہ تو میں نے جنت دیکھی ہے نہ مجھے اس کا پتہ ہے۔بلکہ اس سے قوم کے افراد بھی مراد ہیں کیونکہ قوم کے ہم خیال لوگوں سے جو سلوک ہوتا ہے وہ ساری قوم سے سمجھا جاتا ہے۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مہاجرین میں سے بعض بے شک قتل کئے جائیں گے اور بعض مر جائیں گے لیکن بحیثیت مجموعی اللہ تعالیٰ اُن کو اور اُن کی قوم کو بہت سی دنیوی اور اخروی نعمتیں دے گا۔یعنی زندہ رہنے والوں کو دنیاوی نعمتیں تو بادشاہت کی صورت میں ملیں گی اور اخروی نعمتیں ایمان کی زیادتی کی صورت میں ملیں گی۔ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ یہ با ت اسی طرح ہے اور جو شخص اتنی ہی سزا دے جتنی اُسے تکلیف دی گئی تھی مگر باوجود اس کے (اُس کا دشمن) اُلٹا لَيَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۰۰۶۱ اُس پر چڑھ آئے تو اللہ (تعالیٰ) ضرور اُس کی مدد کرےگا اللہ (تعالیٰ) یقیناً بہت معاف کرنےوالا (اور) بہت بخشنے والا ہے۔حل لغات۔بُغِیَ عَلَیْہِ۔بُغِـیَ عَلَیْہ بَغٰی عَلَیْہِ سے مجہول کا صیغہ ہے اور بَغٰی عَلَیْہِ کے معنے ہیں۔اِسْتَطَالَ عَلَیْہِ وَظَلَمَہٗ۔اس پر ظلم کیا اور دست درازی کی ( اقرب ) پس بُغِیَ عَلَیْہِ کے معنے ہوںگے۔اس پر ظلم کیا گیا۔تفسیر۔یعنی یہ جو ہم نے تعلیم دی تھی کہ ظلم کو ہر دفعہ معاف کرنا ہی ضروری نہیں ہوتا بلکہ بعض دفعہ ظلم کا بدلہ لینا بھی جائز ہوتا ہے۔اس کے متعلق اگر یہ خیال کرو کہ اگر ہم بدلہ لیں گے تو دشمن اور بھی شرارت میں بڑھ جائےگا اور اس طرح ہماری مصیبت زیادہ ہو جائےگی تو یاد رکھو کہ اگرتم مظلوم ہونے کے بعد حد کے اندر بدلہ لو گے اور پھر بھی دشمن تم پر مزید ظلم کرنے کے لئے تیار ہو جائےگا تو خدا تعالیٰ کی مدد تم کو حاصل ہو گی۔اور تمہارے لئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔یہ آیت بظاہر اس جگہ بے تعلق نظر آتی ہے لیکن اگر اوپر کے رکوع کا مضمون دیکھا جائے تو اُس میں یہ آیت نظر آئے گی کہ وَالَّذِیْنَ سَعَوْا فِيْ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ اسی طرح اُس میں فرمایا گیا ہے کہ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا