تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 212

مَا يَوْمُ الدِّيْنِ۔يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْـًٔا١ؕ وَ الْاَمْرُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ (الانفطار :۱۹،۲۰) کہ تجھے کس چیز نے بتایا ہے کہ جزا و سزا کا وقت کیا ہے ؟ وہ وہ وقت ہوگا جس دن کوئی جان کسی جان کی کچھ بھی مالک نہیں ہوگی اور اُس دن اللہ ہی کا حکم ہوگا۔ان آیات سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بادشاہت بھی حاصل ہے۔پس مالک کا لفظ جو سورۂ فاتحہ میں استعمال کیا گیا ہے وہ ان معنوں میں نہیں کہ خدا تعالیٰ صرف مالک ہے مَلِک یعنی بادشاہ نہیں۔بلکہ ان معنوں میں ہے کہ وہ مالک بادشاہ ہے اور یہ ظاہر بات ہے کہ مالک بادشاہ خالی بادشاہ سے بہتر ہوتا ہے یعنی خالی بادشاہت کسی کو تمام افراد یا اشیاء پر پورا تسلط نہیں بخشتی۔ایک بادشاہ کو یہ ہر گز اختیار حاصل نہیں کہ وہ رعایا اور ملک کی دولت سے جس طرح چاہے سلوک کرے۔لیکن بادشاہ اُن اشیاء میں جو اس کی مملوکہ ہوں بالکل اور قسم کا تصرف رکھتا ہے جو اُس تصرف سے جو اُسے صرف بادشاہت کی وجہ سے حاصل ہو تا ہے زیادہ مکمل اور اعلیٰ ہوتا ہے۔پسمٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِکہہ کر خدا تعالیٰ کی ملکیت کی نفی نہیں کی گئی بلکہ خدا تعالیٰ کی ملکیت کی قسم بیان کی گئی ہے یعنی یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خالی مَلِک نہیں بلکہ وہ مَلِک ہے جو ساتھ ہی سب مخلوق کا مالک بھی ہے اور جو مالک بادشاہ ہو اُسے تصرف میں پوری آزادی حاصل ہوتی ہے۔وَ الَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا اور وہ لوگ جو اللہ کے راستہ میں ہجرت کرتے ہیں پھر مارے جاتے ہیں یا طبعی موت مر جاتے ہیں۔لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيْرُ اللہ (تعالیٰ) ان کو نہایت اعلیٰ انعام بخشے گا۔اور اللہ (تعالیٰ) انعام بخشنے والوں میں سب سے اچھا ہے۔الرّٰزِقِيْنَ۰۰۵۹لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ وہ ضرور ان کو ایسی جگہ میں داخل کرے گا جسے وہ پسند کریں گے اور اللہ (تعالیٰ) لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ۰۰۶۰ بہت جاننے والا (اور) بہت سمجھ رکھنے والا ہے۔تفسیر۔اس جگہ جو یہ کہا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں مارے جائیں گے یا مر جائیں گے اللہ تعالیٰ