تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 211

بھاگ جانے والا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑے بت ھبل پر اپنی چھڑی مار ی اور وہ گِر کر ٹوٹ گیا۔تو ایک صحابی ؓ نے ابو سفیان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ابو سفیان ! تمہیں یاد ہے اُحد کے دن تم نے کتنے غرور میں یہ نعرہ لگا یا تھا کہ اُعْلُ ھُبُلْ۔اُعْلُ ھُبُلْ یعنی ہبل کی شان بلند ہو ہبل کی شان بلند ہو۔آج دیکھ لو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہبل کے ٹکڑے پڑے ہوئے ہیں۔ابو سفیان کھسیانا ہو کر بولا۔بھائی یہ باتیں جانے بھی دو۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کے سوا کوئی اور بھی خدا ہوتا تو آج ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں یہ کبھی نہ ہوتا۔اب تو ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ خدائے واحد کے سوا اَور کوئی خدا نہیں (السیرة الحلبیة ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکة شرفھا اللہ تعالیٰ)۔غرض اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ کی پیشگوئی اُس روز بڑی شان سے پوری ہوئی اور عرب کے ایک سرے سے لےکر اُس کے دوسرے سرے تک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آوازیں گونجنے لگیں۔پھرفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ۔وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ میں یہ بتایاکہ الٰہی سلسلوں کی ترقی میں شیطان خواہ کس قدر روڑے اٹکائے اور کتنے ہی منصوبے کرے آخر میں خدا تعالیٰ کے نبی ہی جیتتے ہیں۔اور کفار کی سب تدبیریں ناکام ہو کر رہتی ہیں۔چنانچہ مومن تو ترقی کر جاتے ہیں لیکن مخالفین خائب و خاسر ہو کر غم و غصہ اور ناکامی و ذلت کی آگ میں جلتے رہتے ہیں اور یہ دنیا ہی اُن کے لئے دوزخ ہو جاتی ہے۔اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ میں ضمنی طور پر ایک اعتراض کا جواب بھی پایا جاتا ہے۔بعض لوگ سورۂ فاتحہ کے الفاظ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ پر اعتراض کر تے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نسبت یہ کیوں کہا گیا ہے کہ وہ مَالِک ہے یہ کیوں نہیں کہا گیا کہ وہ مَلِک ہے۔حالانکہ مَلِک یعنی بادشاہ کا تصرف مَالِک یعنی قابض سے زیادہ ہوتا ہے۔اس اعتراض کا جواب اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِمیں موجو دہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس میں فرماتا ہے کہ اُس دن حکومت اللہ ہی کی ہو گی اور وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے گا۔گویا اللہ تعالیٰ صرف مالک ہی نہیں بلکہ متصرف ِ کامل یعنی بادشاہ بھی ہے۔لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ آجکل کے بادشاہوں کی طرح کسی بالا قانون کا پابند ہے۔کیونکہ وہ خود فرماتا ہے کہ بالا قانون کی پابندی صرف اس کے لئے ہوتی ہے جس کے فیصلہ میں ظلم اور استبداد پایا جائے۔لیکن خدا رحمٰن ہے اُس کے فیصلہ میں استبداد نہیں پایا جاتا۔اور ظلم نہیں پا یا جا تا۔بلکہ وہ سب کے ساتھ رحم اور بخشش کا سلوک کرتا ہے اور ایسا معاملہ کرتا ہے جس کے نتیجہ میں لوگوں کو فائدہ پہنچے۔اسی طرح سورۂ فرقان میں فرماتا ہے اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ ( الفرقان :۲۷) کہ اُس دن حکومت واقعی رحمٰن خدا ہی کی ہوگی۔اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ