تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 200
اُمْنِیَّتِہٖ کے یہی معنے ہیں کہ اُس کی خواہشوں کے راستہ میں کوئی چیز ڈال دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ شیطان روک ہی ڈالےگا نبی کی مدد تو نہیں کرےگا۔پس ان الفاظ سے یہ معنے لینا کہ شیطان اس کی زبان پر شرکیہ الفاظ بھی جاری کر دیتا ہے صریح ظلم ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ اوپر کے بیان کردہ واقعہ کی روایت کو بڑے پایہ کے محدثین نے صحیح تسلیم کیا ہے۔چنانچہ ابن حجر جیسا محدث لکھتا ہے انّ ثلاثۃ اسانید منھا علیٰ شرط الصحیح ( فتح الباری لابن حجر کتاب تفسیر القرآن قولہ اذا تمنی القی الشیطن فی امنیتہ) یعنی مختلف راویوں سے جو بڑے ثقہ تھے یہ روایت آتی ہے جن میں سے تین روایتیں اتنی معتبر ہیں جتنی بخاری ؒ کی۔اسی طرح بزاز ؒ اور طبرانی ؒ نے بھی اسے درست تسلیم کیا ہے( ھمیان الزاد تفسیر زیر آیت ھذا) جس کی وجہ سے ہم اس روایت کو کلی طور پر رّد نہیں کر سکتے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے مجھے اس کا حل سمجھا دیا ہے جو یہ ہے کہ جب مسلمان ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے تو مکہ والوں کو اُن کا حبشہ جانا بڑا بُرا لگا۔اور انہوں نے اپنے بعض آدمی نجاشی شاہِ حبشہ کے پاس بھیجے کہ کسی طرح اُن کو سمجھا کر واپس مکہ لے آئیں ( السیرۃ الحلبیۃ جلد ۱ باب الھجرۃ الثانیہ علی الحبشۃ) اور تاریخوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ جس وقت یہ سجدہ والا واقعہ ہوا۔اُس وقت کچھ مہاجرین حبشہ سے لوٹ کر مکہ آگئے۔اور جب اُن سے لوگوں نے پوچھا کہ تم لوگ واپس کیوں آگئے ہو تو انہوں نے کہا۔ہمیں تو یہ اطلاع پہنچی تھی کہ مکہ کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں ( ابن خلدون زیر عنوان ہجرت حبشہ) مکّہ کے جو لوگ اُن سے ملے تھے۔انہوں نے کہا کہ مکّہ والے تو کوئی مسلمان نہیں ہوئے۔بات یہ ہے کہ تمہارے رسول نے قرآن کی کچھ آیتیں ایسی پڑھی تھیں جن سے شرک کی تائید ہوتی تھی۔اس لئے تمہارے رسول کے ساتھ مل کر مکہ والوں نے بھی سجدہ کرد یا مگر جبکہ بعد میں تمہارے رسول نے اُن آیتوں کو منسوخ قرار دے دیا تو مکہ والے پھر اپنے دین کی طرف لوٹ آئے۔یہ باتیں سن کر وہ مہاجر پھر واپس حبشہ چلے گئے ( السیرۃ الحلبیۃ )۔سورۂ نجم کی تلاوت کا واقعہ اور مسلمانوں کے حبشہ سے آنےکا واقعہ اتنا قریب قریب ہے کہ خود جغرافیہ اس کو ردّ کر تا ہے۔مکہ سے اس زمانہ کی بندر گاہ شعیبہ کا فاصلہ اکیلے سوار کے لئے کم ازکم چار پانچ دن کا بنتا ہے۔چنانچہ زرقانی میں لکھا ہے کہ مُسَافَتُھَا طَوِیْلَۃٌ جِدًّا (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ الھجرۃ الاولیٰ الی الحبشۃ) کہ مکہ سے شعیبہ کا فاصلہ بہت زیادہ ہے۔اور وہاں سے حبشہ کی بندرگاہ کا فاصلہ بھی کوئی چار پانچ دن کا بنتا ہے۔کیونکہ اس زمانہ میں لوگ صرف بادبانی کشتیوں میں سفر کرتے تھے اور وہ بھی ہر وقت نہیں چلتی تھیں کیونکہ کوئی جہاز رانی کی کمپنیاں نہیں ہوتی تھیں جب کسی ملّاح کو فرصت ہوتی تھی وہ اپنی کشتی اُدھر لے آتا تھا جس میں بعض دفعہ