تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 201

مہینوں کا فاصلہ ہو جاتا تھا۔اور حبشہ کی بندرگاہ سے لے کر اُس زمانہ کے حبشہ کے دارالحکومت کا فاصلہ کوئی دو مہینہ کے سفر کا ہے۔گویا اگر یہ خبر سورۂ نجم کی تلاوت کے بعد مکّہ سے جاتی اور پھر مسلمان وہاں سے روانہ ہوتے تو مختلف فاصلوں اور دربارِ حبشہ کی اجازت وغیرہ کے زمانہ کو ملا کر کوئی اڑھائی تین ماہ میں لوگ واپس آسکتے تھے۔مگر وہ سجدہ والے واقعہ کے بعد پندرہ بیس دن کے اند ر اندر واپس آگئے۔کیونکہ مسلمان حبشہ جانے کے لئے رجب میں روانہ ہوئے تھے اور شعبان و رمضان حبشہ میں ٹھہرے اور شوال میں واپس پہنچ گئے (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ الھجرۃ الاولیٰ الی الحبشۃ) اور حبشہ ٹھہرنے اور واپس مکہ پہنچنے کا کل عرصہ تین ماہ سے بھی کم بنتا ہے (السیرۃ الحلبیۃ باب الھجرۃ الاولیٰ الی ارض الحبشۃ) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ نجم کی تلاوت والا واقعہ بنایا گیا ہے یعنی بعض مکہ کے سرداروں نے پہلے سے یہ تدبیر سوچی اور کوئی سوار حبشہ دوڑا دیاکہ مسلمانوں میں جاکر مشہور کر دو کہ مکّہ کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور انہوں نے محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر سجدہ کیا ہے۔لیکن جب انہوں نے اندازہ کیا کہ اَب حبشہ والے آنے ہی والے ہوںگے تو سوچا کہ اُن کے آنے پر ہم کیا جواب دیں گے کیونکہ آکر وہ دیکھیں گے کہ مکّہ والے تو ابھی تک کافر ہیں اس لئے یہ مشہور کر دیا کہ سجدہ کرنا ( نعوذ باللہ ) شرکیہ آیتوں کی وجہ سے تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان آیتوں کو منسوخ کرنا جو درحقیقت منسوخ کرنا نہ تھا بلکہ یہ اعلان کرنا تھا کہ ایسی کوئی آیتیں میں نے نہیں پڑھیں کفّار مکّہ کے واپس کفر پر آجانے کی وجہ تھا۔اب یہ تدبیر تبھی کامیاب ہو سکتی تھی جب کہ کوئی شرکیہ آیتیں اس مجلس میں کہلائی جاتیں جس میں آپ نے تلاوت کی تھی۔معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بلکہ کسی خبیث کا فر نے اپنے سرداروں کے مشورہ سے پیچھے سے یہ فقرے پڑھ دئیے اور بوجہ اس کے کہ سینکڑوں آدمی موجود تھے اور مکّہ کے سارے رئو ساء جمع تھے۔شور میں پہچا نا نہیں گیا کہ یہ آواز کس کی ہے۔اور کفار نے مشہور کر دیا کہ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فقرے کہے ہیں اس لئے ہم نے سجدہ کر دیا تھا۔جو لوگ مجلس کے کناروں پر بیٹھے تھے انہوں نے بھی چونکہ یہ فقرے اس متفنی شیطان کے منہ سے سنے تھے جس نے یہ فقرے آپ کی تلاوت کے وقت بآواز بلند کہہ دئیے تھے۔اس لئے اُن لوگوں نے بھی یہ خیال کیا کہ شاید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی یہ فقرے کہے ہوں۔پس اس کہانی کا حل تو یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کے وقت کفار نے پہلے سے سوچے سمجھے ہوئے منصوبہ کے مطابق کسی خبیث سے یہ فقرے بلند آواز سے کہلا دیئے اور اُن کی سکیم کا ثبوت یہ ہے کہ مہاجرین حبشہ اُس وقت سے پہلے مکہ پہنچ گئے جبکہ سورۂ نجم والے واقعہ کو سُن کر وہ مکّہ آسکتے تھے۔بلکہ اگر اُس وقت ہوائی جہاز بھی ہوتے تو جتنے وقت میں وہ آسکتے تھے اُس سے بھی