تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 199
ہی سجدہ کرو اور اس کی فرمانبرداری کرو۔چونکہ اس جگہ قرآن کریم میں سجدہ کرنےکا حکم ہے۔آپ نے اس جگہ سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ صحابہ ؓ نے بھی اور کفار نے بھی سجدہ کیا۔بلکہ ولید بن مغیرہ جو ایک خطرناک دشمنِ اسلام تھا اس نے بھی زمین پر سے کنکر اٹھا کر اپنے ماتھے کو لگا لئے گویا سجدہ کر لیا۔یہ واقعہ جب مکہ میں مشہور ہوا تو ایک شور مچ گیا۔لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ سارامکہ مسلمان ہوگیا ہے کیونکہ سب کفار نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر سجدہ کر لیا ہے۔مسلمان مفسر کہتے ہیں کہ یہ آیتیں جو آپ ؐ نے پڑھیں کہ وَتِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلیٰ وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی یہ قرآن کا حصہ نہیں تھیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے بعد میں ان کو منسوخ کر دیا۔چنانچہ موجودہ قرآن میں یہ آیتیں نہیں ہیں (تفسیرقرطبی و فتح البیان زیر آیت ھٰذا)۔وہ اس کہانی کی حقیقت یہ بیان کرتے ہیں کہ سورۂ حج میں یہ آیت آتی ہے کہ وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِيٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْۤ اُمْنِيَّتِهٖ۔یعنی ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر اُس کی یہ حالت تھی کہ جب کبھی وہ وحی پڑھتا تھا شیطان اُس کی وحی میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیتا تھا۔پھربعد میں خدا تعالیٰ شیطانی وحی کو منسوخ کر دیتا تھا۔اسی طرح جب رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃنجم کی آیتیں خانہ کعبہ میں پڑھیں تو شیطان نے ( نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ ذَالِکَ ) آپ ؐ کی وحی میں یہ بات ملا دی کہ وَتِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلیٰ وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تو مکہ کے کفار نے سمجھا کہ آپ ؐنے اپنے دین میں کچھ تبدیلی کر دی ہے اور آپ کے ساتھ سجدہ میں شامل ہو گئے۔جب مکہ میں شور پڑگیا کہ کفار مسلمان ہوگئے ہیں تو کفار نے کہا کہ ہم نے تو صرف اس لئے سجدہ کیا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلاوت میں یہ فرمایا تھا کہ تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلیٰ وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی جس میں صاف طور پر ہمارے بتوں کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔پس جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بتوں کو تسلیم کر لیا تو ہم نے بھی جواب میں اُن کے خدا کے آگے سجدہ کر دیا۔جب کفار کا یہ قول مشہور ہوا تو مفسرین کہتے ہیں کہ چونکہ حدیثوں سے ثابت ہے کہ اُس وقت کوئی آواز آئی تھی جس میں یہ الفاظ سنے گئے تھے کہ وَتِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلیٰ وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی اس لئے معلوم ہو تا ہے کہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہر نبی کی زبان پر شیطان کبھی کبھی خدائی منشاء کے خلاف الفاظ جاری کر دیتا تھا(القرطبی و فتح البیان زیر آیت ھذا)۔لیکن اس آیت میں الفاظ جاری کرنے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ آیت کے صرف اتنے معنے ہیں کہ جب کوئی نبی دنیا میں کوئی خواہش کرتا ہے اور نبی کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ دنیا کی اصلاح ہو جائے۔اُس وقت شیطان جو اس کی کامیابی کو ناپسند کرتا ہے اُس کے راستہ میں روکیں ڈال دیتا ہے۔اَلْقٰی کے معنے ڈال دینے کے ہوتے ہیں۔پس اَلْقٰی الشَّیْطٰنُ فِی