تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 188
تھیں اور اُن ضرورتوں میں انہوں نے کس قدر قربانی کی یا دونوں کے لئے صدقہ کا محرک کون سی بات ہوئی اور ان میں سے زیادہ بہتر کونسی ہے اور جب بدلہ اس اصل کے ماتحت ملے تو ظاہری اختلاف کے باوجود کسی شخص کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا جس طرح محض جانوروں کی قربانی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ خدا تعالیٰ کو وہ اخلاص پہنچتا ہے جس کے ماتحت قربانی کی جاتی ہے۔اور وہ محبتِ الٰہی پہنچتی ہے جو اس قربانی کی محرک ہوتی ہے۔جس کے پاس تقویٰ ہو اُس کی اٹھنی بھی اُس شخص کے سور وپے سے زیادہ قیمت رکھتی ہے جو تقویٰ سے خالی ہو۔کیونکہ قرآن کریم نے یہ اصول بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ خون اور گوشت کو نہیں دیکھتا بلکہ قربانی کرنے والے کی نیت کو دیکھتا ہے۔ایک امیر آدمی آسانی کے ساتھ سو اونٹ یا سو دُنبے خدا تعالیٰ کی راہ میں ذبح کر سکتا ہے۔لیکن ایک غریب آدمی جو سال بھر قربانی کے لئے پیسے جمع کرتا رہتا ہے اور جس کا ایک ایک دن اس حسرت میں گذرتا ہے کہ کاش میرے پاس اتنی رقم جمع ہو جائے کہ میں ایک دفعہ عید کے موقع پر قربانی کرکے اُس کا کچھ گوشت خدا کی راہ میں تقسیم کردوں اور کچھ گوشت اپنے دوستوں کو تحفۃً پیش کر وں۔وہ اگر سال بھر کی محنت اور تگ و دو کے بعد ایک معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی قربان کرتا ہے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ اس کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی کو رّد کر دےگا۔اور اس امیر کے موٹے تازے دُنبوں کو قبول کر لے گا۔اگر خدا تعالیٰ انسانی عمل پر فیصلہ کرتا تو یقیناً اُس امیر کے موٹے تازے دُنبے قبول کرلئے جاتے۔اور اس غریب کی معمولی سی بکری یا چھوٹی سی دُنبی رّد کر دی جاتی۔مگر اللہ تعالیٰ کافیصلہ انسانی اعمال پر نہیں ہوگا۔بلکہ وہ فرماتا ہے يَنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ۔خدا تعالیٰ کے حضور قربانی کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ تمہارے دلی جذبات اُس تک پہنچتے ہیں۔یعنی اُن کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے اگر اُس کے پاس گوشت اور خون پہنچا کرتا تو وہ اچھا گوشت پسند کر لیتا اور وہ اُن قربانیوں کو قبول کر لیتا جن میں بہت زیادہ خون بہایا گیا ہو۔مگر وہ فرماتا ہے ہمارے پاس ان چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں پہنچتی۔ہمارے پاس تو قربانی کے پیچھے جو نیّت ہوتی ہے وہ پہنچا کر تی ہے۔اگر ایک چھوٹی سی دُنبی ذبح کرنے والے کی نیت بہت اعلیٰ تھی اور دو سو بڑے بڑے دُنبے ذبح کرنے والے کی نیت ایسی اعلیٰ نہیں تھی تو قیامت کے دن جس نے دو سو دُنبے ذبح کئے ہوںگے اگر اُس کے ساتھ اعلیٰ اخلاص نہ ہوگا تو اُس کے ساتھ دو سو دُنبے نہیں ہوںگے بلکہ ایک مریل سی دُنبی ہوگی۔اور جس نے ایک چھوٹی سی دُنبی ذبح کی تھی اگر اُس نے اعلیٰ اخلاص اور محبت کے ساتھ یہ قربانی کی تھی تو قیامت کے دن اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی دُنبی نہیں ہوگی بلکہ ہزار ہا موٹے تازے دُنبے ہوںگے کیونکہ اُس جہان میں سب کی سب چیزیں نیّت کے تابع ہو جاتی ہیں۔