تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 189
یہ تو روحانی نقطۂ نگاہ سے قربانیوں کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔مادی لحاظ سے غور کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر اشیاء دنیا میں پیدا کی ہیں اُن میں سے ہر ایک کا ایک چھلکا ہوتا ہے اور ایک مغز ہوتا ہے۔دنیا میں کوئی مغز ایسا نہیں جو بغیر چھلکے کے ہو۔اور کوئی چھلکا ایسا نہیں جس کے اندر مغز نہ ہو۔یہی کیفیت روحانی اعمال کی بھی ہے مثلاً نماز میں قیام اور قعود اور رکوع اور سجود ایک چھلکا ہیں۔لیکن وہ رُوحانی اثر جو اس قیام و قعود اور رکوع و سجود کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے وہ مغز ہے۔قربانیوں میں بھی کسی جانور کو ذبح کرنا ایک قشر ہے لیکن وہ اخلاص جو اس قربانی کے پیچھے کا م کررہا ہوتا ہے وہ مغز ہوتا ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری قربانیوں کے گوشت اور خون خدا تک نہیں پہنچتے بلکہ تمہارا تقویٰ خدا تک پہنچتا ہے۔ممکن ہے کوئی شخص کہے کہ اگر تقویٰ ہی کی ضرورت تھی تو پھر جانور کیوں قربان کروائے جاتے ہیں۔اس کا ایک جواب تو یہی ہے کہ ہر مغز اپنے ساتھ قشر بھی رکھتا ہے اور دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ قشر بے فائدہ چیز نہیں بلکہ غرباء کے کام آنے والی چیز ہے چونکہ غربا ء عام طور پر اس مقوی خوراک سے محروم رہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک صدقہ اس قسم کا بھی جاری کر دیا جس میں جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے تاکہ غرباء کے دل بھی نہ ترستے رہیں اور وہ اس مقوی غذا سے اپنی مالی تنگی کی وجہ سے محروم نہ رہیں۔چنانچہ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان قربانیوں پر تم کو اس لئے ملکیت بخشی ہے تاکہ تم خدا تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق ان پر خدا تعالیٰ کا نام لیتے رہو اور غریبوں کی پرورش کرتے رہو اور یاد رکھو کہ جو خدا تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کریں ان کو بڑے بڑے انعام ملتے ہیں۔اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ اللہ (تعالیٰ )یقیناً ان لوگوں کی طرف سے جو کہ ایمان لائے ہیں دفاع کرتا رہےگا۔اللہ (تعالیٰ) یقیناً ہر خیانت خَوَّانٍ كَفُوْرٍؒ۰۰۳۹ کرنے والے (اور) انکار کرنےوالے کو پسند نہیں کرتا۔تفسیر۔فرماتا ہے مومنوں کو ڈرنا نہیں چاہیے خدا تعالیٰ خود ان کی طر ف سے اُن کے دشمنوں سے لڑےگا اور انہیں اُن کی کوششوں میں ناکام کرےگا۔لیکن انہیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ خائن ہوتے ہیں اسی طرح وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کے باوجود نا شکر ے ہوتے ہیں یعنی اپنے اموال کو غریبوں پر خرچ نہیں