تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 187

قربانی بھی کرتا ہے وہ شرفا ء کے نزدیک قابلِ احترام ہے۔لیکن جو شخص صرف بکرے کی قربانی پر اکتفا کرتا ہے وہ نقال اور بھانڈ ہے اور اس لئے کسی عزت کا مستحق نہیں۔پھر اگرغور کرکے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ سوائے اُن قصابوں کے جو جانوروں کو روزانہ ذبح کر نے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں دوسرے لوگوں کی طبیعت پر جانور کو ذبح ہوتے دیکھ کر ایک گہرا اثر پڑتا ہے اور اُن کے خیالات میں ایک زبردست ہیجان پیدا ہو جاتا ہے۔حتّٰی کہ اسی اثر کے ماتحت بعض قوموں نے قربانی کو ظلم قرار دے دیا ہے۔اُن کا یہ فعل تو کمزوری کی علامت ہے مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قربانی کا اثر طبیعت پر ضرور پڑتا ہے۔اور اسی اثر کو پیدا کرنے کے لئے قربانی کو عبادت میں شامل کیا گیا ہے۔گویا قربانی کے ذریعہ سے ہر انسان اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ جس طرح یہ جانور جو مجھ سے ادنیٰ ہے میرے لئے قربان ہوا ہے اسی طرح میں بھی اقرار کرتا ہوں کہ اگر مجھ سے اعلیٰ چیزوں کے لئے مجھے اپنی جان دینی پڑے گی تو میں بھی خوشی سے اپنی جان دے دوں گا۔اب غور کرو جو شخص قربانی کی اس حکمت کو سمجھ کر قربانی کرتا ہے اس کی طبیعت پر اس کا کس قدر گہرا اثر پڑے گا اور کس طرح وہ اپنے اس فرض کو یاد رکھے گا جو اُس کے پیدا کرنےوالے کی طرف سے اُ س پر عائد ہوتا ہے۔اس ذبح کی یاد ہمیشہ اس کے دل میں تازہ رہے گی۔اور اس کا دل اُسے کہتا رہےگا کہ دیکھ تُو نے اپنے ہاتھوں سے بکرے کو ذبح کر کے اس امر کا اقرار کیا تھا کہ ادنیٰ چیز اعلیٰ کے لئے قربان کی جاتی ہے۔اب تجھے بھی اس قربانی کے لئے تیار رہنا چاہیے جو صداقتوں کے قیام کے لئے یا بنی نوع انسان کی تکالیف کے دُور کرنے کے لئے تجھے کرنی پڑیں۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ تمہاری قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون۔بلکہ اللہ تعالیٰ کو وہ ارادۂ نیک پہنچتا ہے جو خشیت اللہ کو مدنظر رکھ کر تم نے کیا تھا۔یعنی اگر تم اس غرض کو پورا کرو گے جس کے لئے تم نے قربانی کی ہے تو فائدہ ہو گا ورنہ صرف گوشت کھانے اور خون بہانے کا کام تم سے ہو اہے جس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم کی رو سے کسی عمل کی ظاہر ی شکل نتیجہ پیدا نہیں کرتی بلکہ قربانی کی وہ رُوح نتیجہ پیدا کرتی ہے جو اس عمل کے پسِ پشت کا م کر رہی ہوتی ہے۔پس حالات کے اختلاف کی وجہ سے بعض دفعہ عمل کی ظاہر ی شکل میں جو اختلاف پیدا ہو جاتا ہے وہ کسی شخص کو ترقی سے روکتا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نتیجہ کے وقت ا س کی قربانی کی رُوح کو مدنظر رکھ کر اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔مثلاً ایک شخص کے پاس دس ہزار روپیہ ہو اور وہ اس میں سے سو روپیہ غرباء میں تقسیم کر دے۔اور ایک شخص جس کے پاس صرف دس روپے ہوں وہ اُن میں سے پانچ روپے دے دے تو نتیجہ پانچ اور سو کے مطابق نہیں نکلے گا بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ دونوں کو کتنی ضرورتیں