تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 184

اب کیا کوئی عقلمند اس وقت قیا س کر سکتا تھا کہ اُن کی ایک آنکھ کا نکلنا دین کو کوئی فائد ہ پہنچا سکتا ہے۔واقعہ یہی ہے کہ اُس وقت یہ تمام قربانیاں بالکل بے کار نظر آتی تھیں لیکن اگر عثمانؓ بن مظعون کی ایک آنکھ خدا تعالیٰ کے راستہ میں نہ نکلتی۔اگر عثمانؓ بن مظعون کی دوسری آنکھ خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لئے تڑپ نہ رہی ہوتی۔اگر عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے نہ مارے جاتے۔اگر مکّہ کے ابتدائی دور میں صحابہ ؓ اپنی جانیں قربان نہ کرتے تو مسلمان وہ قربانیاں کبھی پیش نہ کر سکتے جو انہوں نے بدر اور اُحد کے موقعہ پر پیش کیں۔وہ قربانیاں کبھی پیش نہ کر سکتے جو انہوں نے احزاب کے موقعہ پر پیش کیں۔یہی قربانیاں تھیں جنہوں نے اُن کے اندر جوش پیدا کیا۔اُن کے اندر اخلاص پیدا کیااور انہیں قربانی کے نہایت اعلیٰ مقام پر لا کر کھڑا کر دیا۔اسی طرح بے شک وہاں ہزاروں بکرے ذبح ہوتے ہیں جن کا گوشت بظاہر ضائع چلا جاتا ہے اور اُس کو کھانے والا بھی کوئی نہیں ہوتا مگر اسلام پھر بھی قربانیوں کو حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ لَكُمْ فِيْهَا خَيْرٌ تمہارے لئے اس میں خیراور برکت رکھی گئی ہے۔تمہیں ان قربانیوں کے تسلسل کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہیے۔اور ان دُور رس نتائج پر نظر رکھنی چاہیے جو ان قربانیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔اُس احمق بادشاہ کی طرح نہیں بننا چاہیے جس نے فوج کے خرچ کو بے مصرف قراردےکر اُسے توڑ دیا تھا۔اور سمجھ لیا تھا کہ وقت آنے پر قصاب یہ کام کرلیں گے۔مگر نتیجہ یہ ہوا کہ سارا ملک اس کے ہاتھ سے جاتا رہا۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہمیں ایک ایسا واقعہ نظر آتا ہے۔جس میں مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے یہی سبق دیا تھا کہ بعض دفعہ ایسی قربانی بھی کی جاتی ہے جس کا بظاہر کو ئی فائدہ نظر نہیں آتا۔مگر پھر بھی قوم کو قربانی میں حصّہ لینا پڑتا ہے۔صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین مکّہ سے صلح کر لی تو صحابہ ؓ کے اندر اس قدر بے چینی پیدا ہوئی کہ حضرت عمر ؓ جیسا آدمی بھی گھبرا گیا۔اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ نہیں کیا تھا کہ ہم حج کریں گے۔آپ ؐ نے فرمایا ٹھیک ہے مگر یہ کب کہا تھا کہ اسی سال کریں گے۔غرض صحابہ ؓ کے لئے یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا جس سے انہیں دو چار ہونا پڑا۔اسی لئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی قربانیاں یہیں ذبح کر دو تو وہ حیران ہوئے کہ ہمیں یہ کیا حکم دیا گیا ہے۔قربانی تو مکّہ میں ہونی تھی اور پھر عمرہ یا حج کے بعد ہونی تھی۔مگر ہمیں یہیں قربانی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔جب ہم مکّہ گئے نہیں۔خانہ کعبہ کا ہم نے طواف نہیں کیا۔عمرہ یا حج نہیں کیا۔تو قربانی کیسی۔جب صحابہ ؓ قربانیاں کرنے میں متأمل ہوئے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی ایک بیوی سے فرمایا کہ آج تیری قوم کو میں نے یہ حکم دیا تھا مگر اُس نے میری اس بات کو نہیں مانا۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ انہوں نے محبت کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا بلکہ اس