تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 183

رہے ہیں۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک عثمان ؓ بن مظعون بھی تھے۔عرب کا ایک مشہور شاعر لبید ایک مجلس میں اپنے اشعار سُنا رہا تھا کہ اُس نے یہ مصرع پڑھا۔؎ اَلَا کُلُّ شَیْءٍ مَا خَلَا اللّٰہَ بَاطِلُ یعنی سُنو کہ خدا کے سوا ہر چیز تباہ ہونے والی ہے۔عثمانؓ بن مظعون نے یہ مصرع سُنتے ہی بڑے زور سے کہا کہ بالکل ٹھیک ہے۔خدا کے سوا ہر چیز واقع میں فنا ہونے والی ہے۔عثمانؓ بن مظعون اُس وقت چھوٹی عمر کے بچے تھے جب انہوں نے تعریف کی تو لبید ناراض ہو گیا۔اور اُس نے لوگوں سے کہا کہ اس لڑکے نے میری ہتک کی ہے کیا میں اپنے اشعار میں ایک چھو کرے کی تائید کا محتاج ہوں بعض لوگ اُسے مارنے کے لئے اُٹھے لیکن بعض اَور نے دخل دے کر اس معاملہ کو رفع دفع کر ا دیا۔اور اُسے کہہ دیا کہ اب تم نے کچھ نہیں کہنا۔اس کے بعد لبید نے اس شعر کا دوسرا مصرع پڑھا کہ ؂ وَکُلُّ نَعِیْمٍ لَا مَحَالَۃَ زَائِلُ یعنی ہر نعمت بہر حال ایک دن ختم ہو نے والی ہے۔اس پر عثمانؓ بن مظعون سے برداشت نہ ہو سکا اور انہوں نے کہا۔جنت کی نعمتیں کبھی ختم نہیں ہو ں گی۔لبید کو سخت غصّہ آیا اور اُس نے کہا میں اس مجلس میں اَب اپنے شعر سُنانے کے لئے تیار نہیں۔اس پر لوگ کھڑے ہو گئے اور انہوں نے عثمانؓ بن مظعون کو مارنا شروع کر دیا۔اور ایک شخص نے اتنے زور سے گھونسہ مارا کہ عثمانؓ بن مظعون کی ایک آنکھ کا ڈیلا با ہر نکل آیا۔اُن کے والد کا ایک دوست بھی اُسی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا اور پہلے وہ اُسی کی پناہ میں رہتے تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ دوسرے مسلمانوں کو ماریں پڑ رہی ہیں اور وہ آرام سے مکہ میں پھرتے ہیں تو انہوں نے اس رئیس سے جا کر کہہ دیا کہ میں تمہاری پناہ میں نہیں رہنا چاہتا۔چنانچہ اُس نے اعلان کردیا کہ عثمانؓ اب میری پناہ میں نہیں۔اُسے یہ جرأت تو نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ سب لوگوں کے سامنے اُن کی مدد کرتا۔لیکن جب اُن کی آنکھ نکل گئی تو جس طرح کسی غریب آدمی کے بچے کو کوئی امیر آدمی کا بچہ مارے پیٹے تو غریب ماں اپنے بچہ کو ہی مارتی ہے اور اُس پر غصّہ نکالتی ہے۔اسی طرح وہ ان مارنے والوں پر تو غصہ نہیں نکال سکتا تھا اُس نے عثمانؓ پر ہی غصّہ نکالا۔اور کہا میں نے تجھے نہیں کہا تھا کہ تو میری پناہ سے نہ نکل۔اب دیکھا تُو نے کہ اُس کا کیا نتیجہ نکلا۔حضرت عثمانؓ بن مظعون نے جواب دیا کہ چچا تم تو مجھ پر اس لئے خفا ہو رہے ہو کہ میری ایک آنکھ کیوں نکلی لیکن خدا کی قسم میری تو دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لئے تڑپ رہی ہے(الاصابة فی معرفة تمییزالصحابة۔عثمان بن مظعون والسیرة النبویة لابن ہشام قصة عثمان بن مظعون )۔