تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 185

صدمہ کا اُن کی طبیعتوں پر اس قدر اثر ہے کہ وہ اپنے حواس میں نہیں رہے۔آپ اپنی قربانی کو ذبح کرنا شروع کر دیجئیے اور صحابہؓ سے کچھ نہ کہیں۔پھر دیکھیں کہ اس کا کیا اثر ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہت اچھا۔آپ ؐ نے نیزہ ہاتھ میں لیا اور سیدھے اپنی قربانی کی طرف گئے۔آپ ؐ کا اپنے اونٹ کو نیزہ مارنا تھا کہ صحابہ ؓ دیوانہ وار اُٹھے اور اپنی قربانیاں ذبح کرنے لگ گئے۔(بخاری کتاب الشرو ط باب الشروط فی الجہاد المصالحۃ مع اھل الحرب و کتابۃ الشروط)اب دیکھو یہ قربانی بظاہر بے معنے تھی۔صحابہ ؓ مکّہ میں داخل نہیں ہوئے تھے۔انہوں نے خانہ کعبہ کا طواف نہیں کیا تھا۔انہوں نے عمرہ یا حج نہیں کیا تھا مگر پھر بھی انہوں نے اپنی قربانیاں ذبح کر دیں ایسا کیوں ہوا ! صرف اس لئے کہ اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتا تھا کہ اگر لوگ تمہیں بیت اللہ تک نہیں جانے دیتے تو جہاں انہوں نے تمہیں روک دیا ہے تم وہیں قربانی کرد و اور سمجھ لو کہ یہی مقام خدا تعالیٰ کا گھر ہے۔غرض یہ بھی بظاہرایک بے مصرف قربانی تھی مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ ؓ کو اس قربانی کا حکم دیا اور اس طرح بتا دیا کہ خواہ کوئی قربانی تمہیں کتنی ہی بے مصرف دکھائی دیتی ہو تمہارا کام ہچکچاہٹ کا اظہار کرنا نہیں۔تمہارا کام قربانیوں کی آگ میں اپنے آپ کو جھونک دینا ہے۔تمہیں خدا نے اپنے دین کا سپاہی بنایا ہے۔تمہارے ہاتھوں پر کفر اور شیطنت کی شکست مقدر ہے۔تم کام کرنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔پس تمہارا جرنیل تمہیں جو کچھ کہتا ہے تم کرو۔اور جس طرف تمہیں لے جانا چاہتا ہے اُس کے پیچھے جائو۔یہی روح ہے جس کے نتیجے میں تمہیں خیر اور برکت حاصل ہوگی اور جس کے بعد دنیا کی کوئی قوم تمہارے مقابلہ میں کھڑی نہیں ہو سکے گی۔لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ يَّنَالُهُ (یاد رکھو کہ) ان قربانیوں کے گوشت اور خون ہر گز اللہ( تعالیٰ) تک نہیں پہنچتے لیکن تمہارے دل کا تقویٰ اللہ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى ( تعالیٰ) تک پہنچتا ہے۔(درحقیقت) اس طرح اللہ( تعالیٰ) نے ان قربانیوں کو تمہاری خدمت میں لگا دیا ہے تاکہ تم