تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 182
بڑی برکت رکھی گئی ہے۔وہ لوگ جو حقائق سے نا آشنا ہیں وہ بھی اور مسلمانوں میں سے بھی بعض نادان یہ اعتراض کر دیا کرتے ہیں کہ اسلام نے یہ قربانی بغیر کسی حکمت کے رکھی ہے کیوں نہ اس روپیہ کے بدلہ میں کالج جاری کئے جائیں اور اس طرح قومی ترقی کے سامان کئے جائیں۔فرض کرو حج کے موقعہ پردس لاکھ بکرا ذبح ہوتا ہے اور ایک بکرے کی اوسط قیمت پچیس روپے بھی فرض کی جائے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے کا بکرا ذبح ہو جاتا ہے۔پھر اونٹ وغیرہ بھی ہوتے ہیں ان سب کو ملا کر اندازاً دو کروڑ روپیہ ان قربانیوں پر خرچ ہو جا تا ہے۔پس لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ روپیہ قربانیوں پر ضائع کیا جائے کیوں نہ اس کے بدلہ میں عربوں کی تربیت کا انتظام کیا جائے اور مکہ مکرمہ میں کالج اور سکول وغیرہ جاری کر دئیے جائیں۔میں ہمیشہ ان کو یہ جواب دیا کرتا ہوں کہ بعض دفعہ قوم پر ایسے اوقات بھی آیا کرتے ہیں جب اُسے ایسی قربانیا ں کرنی پڑتی ہیں جو بظاہر بے فائدہ نظر آتی ہیں۔انہی قربانیوں کی ٹریننگ کے لئے اسلام نے یہ سلسلہ جاری کیا ہے تاکہ ایسے مواقع پر خواہ انہیں کوئی حکمت نظر آئے یا نہ آئے وہ قربانی کرتے چلے جائیں۔مثلاً اگر کسی ملک میں کوئی اکیلا مسلمان ہو اور وہاں کی حکومت مذہب کے خلاف کوئی جابرانہ حکم دےدے جس سے وہ اسلام کو مٹانا چاہتی ہو۔تو ایسی صورت میں اسلامی تعلیم کے مطابق وہ یہ نہیں کہےگا کہ جب قربانی کا کوئی فائدہ نہیں تو میں اپنے آپ کو کیوں قربان کروں بلکہ وہ فوراً قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دے گا۔کیونکہ جب تک وہ اپنے آپ کو قربان نہیں کرے گا دوسروں کے دلوں میں قربانی کی تحریک پیدا نہیں ہوگی۔وہ اگر پھانسی پر چڑھ جائےگا۔تو پھر کوئی دوسرا شخص بھی پھانسی کے تختے پر چڑھنے کے لئے نکل آئے گا۔وہ دوسرا شخص پھانسی دیا جائےگا تو تیسرا شخص نکل آئےگا اور اس طرح قدم بقدم تمام قوم میں ایسا جوش پیدا ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی حفاظت کے لئے دیوانہ وارکھڑے ہو جائیں گے اور کفر کو شکست کھانے پر مجبور کر دیں گے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہّ مکرمہ میں دعویٰ فرمایا تو اس وقت جن صحابہ ؓ نے قربانیاں کیں۔وہ بظاہر کیسی بے فائدہ اور کیسی بے نتیجہ نظر آتی تھیں۔مگر پھر انہی قربانیوں کے نتیجہ میں مکہ فتح ہوا اور سارا عرب اسلامی جھنڈے کے نیچے آگیا۔جب صحابہ ؓ مکہ میں قربانیاں کر رہے تھے اُس وقت کوئی شخص یہ قیاس بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک دن انہی قربانیوں کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عظیم الشان شوکت ملنے والی ہے۔اُس وقت جن عورتوں کی شرمگاہوں میں نیز ے مار مار کر انہیں مارا جاتا تھا ،جن مردوں کو اونٹوں کے ساتھ باندھ کر ان کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جاتا تھا اُن عورتوں اور مردوں کی قربانیوں کو دیکھ کرہر شخص سمجھتا تھا کہ یہ لوگ بیکار اپنی عمریں ضائع کر