تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 171
نہم : شرک کی نویں قسم یہ ہے کہ ایسے اعمال جو مشرکانہ رسوم کا نشان ہیں گو اب شرک کی مشابہت نہیں رکھتے ان کا بلا ضرورت ِ طبعی ارتکاب کیا جائے مثلاً کوئی شخص کسی قبر پر دیا جلا کر رکھ آئے تو خواہ وہ صاحب قبر سے دُعا کرے یا نہ کرے یا صاحبِ قبر کو خدا سمجھے یا نہ سمجھے یہ فعل بھی شرک کے اندر آجائےگا کیونکہ یہ عمل پہلے زمانہ کے مشرکانہ اعمال کا بقیہ ہے۔وہ لوگ خیال کرتے تھے کہ مُردے قبروں پر واپس آتے ہیں اور جن لوگوں کی نسبت معلوم کرتے ہیں کہ انہوں نے اُن کی قبروں کا احترام کیا ہے اُن کی مدد کرتے اور ان کے کاموں کو تکمیل تک پہنچا دیتے ہیں۔اسی لئے لوگ قبروں پر دئیے یا پھول وغیرہ رکھ آتے تھے۔ان یاد گار وں کو تازہ رکھنا بھی چونکہ شرک کی مدد کرنا ہے۔اس لئے یہ بھی شرک میں ہی داخل ہے اسی طرح درختوں پر رسیّاں وغیرہ باندھنی یا قبروں پر چڑھاوے چڑھانے اور ٹونے کرنے سب اسی قسم میں شامل ہیں۔میں نے جو یہ کہا ہے کہ بلا ضرورت طبعی ایسے کام کرنے منع ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کہیں جا رہا ہو اور راستہ میں رات آجائے اور مجبوراً کسی مقبرہ میں ٹھہرنا پڑے تو یہ ضروری نہیں کہ وہاں انسان اندھیرے میں ہی بیٹھا رہے بلکہ اگر دیا جلا کر روشنی کا انتظام کرلے تو یہ جائز ہوگا۔دہم : شرک کی دسویں قسم یہ ہے کہ خواہ عمل نہ ہو۔مگر دل میں محبت ، ادب ، خوف اور اُمید کے جذبات اور لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ سے زیادہ یا اُس کے برابر رکھے جائیں۔کامل موحد وہی ہے جو شرک کی ان تمام اقسام سے بچے اور اللہ تعالیٰ کی احدیت پر سچّے دل سے ایمان لائے۔حق یہ ہے کہ شرک انسان کا نقطۂ نگاہ بہت ہی محدود کر دیتا ہے اور اس کی ہمت کو گِرا دیتا ہے۔اور اس کے مقصد کو ادنیٰ کر دیتا ہے۔مشرک انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ براہ راست خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور اُسے کسی واسطہ کی ضرورت ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور انسانوں کے درمیان کوئی واسطہ نہیں رکھا اور سب انسانوں کے لئے اُس نے اپنے قرب کے دروازے کھلے رکھے ہیں جو چاہے اُن میں داخل ہو جائے۔بے شک ایک دنیوی بادشاہ کے لئے سب رعایا سے تعلق رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔مگرخدا تعالیٰ کی طاقتیں محدود نہیں ہیں۔اُ س کی طاقت اور قدرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ سب سے براہِ راست تعلق رکھے اور انہیں اپنے قرب میں جگہ دے۔