تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 170
ہیں اپنی خاص طاقت کے ذریعہ سے اس کام کو پورا کر دیا ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ نے آگ کو جلانے کے لئے پیدا کیا ہے۔اب اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ کسی شخص نے اپنی ذاتی طاقت سے بلا دوسرے ذرائع استعمال کرنے کے جو قانونِ قدرت میں رکھے گئے ہیں آگ لگا دی تو یہ شرک ہو گا لیکن اس میں مسمریزم وغیرہ شامل نہیں کیونکہ یہ طاقتیں خود قانون قدرت کے اندر شامل ہیں کسی شخص کے ذاتی کمالات نہیں۔ہفتم : شرک کی ساتویں قسم یہ ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ خدا کو کسی بندہ سے ایسی محبّت ہے کہ وہ اس کی ہر ایک بات مان لیتا ہے کیونکہ اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ وہ بندہ خدائی طاقتیں رکھتا ہے۔ہشتم : شرک کی آٹھویں قسم یہ ہے کہ کسی ایسی چیز کے متعلق جسے خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت نے کسی کام کے کرنے کی کوئی طاقت نہیں دی۔اس کے متعلق یہ خیال کر لیا جائے کہ وہ فلاں کام کر لے گی۔مثلاً خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے آپ کو اَلسَّمِیْعُ قرار دیا ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ وہ کامل طور پر لوگوں کی دعائوں کو سُنتا اور اُن کی حاجات کو پورا فرماتا ہے۔یعنی فاصلہ اور وقت کا اُس پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔اب اگر کوئی شخص خدا تعالیٰ سے دُعا کرنے کی بجائے مُردوں کی قبروں پر جاتا اور اُن سے اپنی مرادیں مانگتا ہے تو وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے اَلسَّمِیْعُ ہونے میںمُردوںکوبھی شریک کر لیا۔حالانکہ قرآن کریم اس کی صراحتاً تردید کر تا ہے اور فرماتا ہے کہ وَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا وَّ هُمْ يُخْلَقُوْنَ۔اَمْوَاتٌ غَيْرُ اَحْيَآءٍ١ۚ وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ ( النحل:۲۱،۲۲)یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبود انِ باطلہ کو لوگ اپنی مدد کے لئے پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں اور وہ سب کے سب مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ کب دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے اس خیال کی تردید فرمائی ہے کہ ہمارے معبود بھی دلوں کے بھید جانتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔جو خالق ہو وہی اپنی مخلوق کی اندرونی طاقتوں اور اُس کی ضروریات سے آگاہ ہو سکتا ہے مگر جن کو تم پکارتے ہو وہ تو خود سب کے سب مخلوق ہیں انہوں نے تمہارے حالات کو کیا جاننا ہے۔اور پھر وہ مُردہ ہیں زندہ نہیں۔انہوں نے تمہاری مدد کیا کرنی ہے۔انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کب اُٹھائے جائیں گے گویا اُن کا انجام بھی دوسروں کے ہاتھ میں ہے۔ایسی صورت میں اگر کوئی شخص کسی قبر پر جاتا اور مردہ کوکسی تصرف کے لئے کہتا ہے تو وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔اسی طرح بتوں ، دریائوں ، سمندروںاور سورج اور چاند وغیرہ سے مُراد یں مانگنا اور دُعائیں کرنا بھی شرک میں ہی شامل ہے۔