تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 169

یہی ہے کہ وہ شرک کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ شرک کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے بلکہ مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے اس مرض کی حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے۔جب تک اُسے ایک تعریف کے اندر لانے کی کوشش کی جائے اُس وقت تک یہ مسئلہ ایک عقدۂ لاینحل ہی رہتا ہے۔میرے نزدیک شرک مندرجہ ذیل اقسام میں منقسم ہے : اوّل : یہ خیال کرنا کہ ایک سے زیادہ ہستیاں ہیں جو یکساں طاقتیں رکھتی ہیں اور سب کی سب دنیا کی حاکم اور سردار ہیں۔یہ شرک فی الذات ہے۔دوسرے :یہ خیال کرنا کہ دنیا کی مدبر ہستیاں ایک سے زیادہ ہیں جن میں کمالات تقسیم ہیں کسی میں کوئی کمال ہے اور کسی میں کوئی۔یہ شرک بھی شرک فی الذات میں ہی داخل ہے۔تیسرے :وہ اعمال جو مختلف قوموں میں عاجزی اور انکساری کے لئے اختیار کئے گئے ہیں۔اُن میں سے جو حد درجہ کے انتہائی عاجزی کے اعمال ہیں اُن کو خدا کے سوا کسی اور کے لئے اختیار کرنا مثلاً سجدہ انتہائی ادب اور تذلّل کے اظہار کا ذریعہ ہے۔پس یہ عمل صرف خدا کے لئے جائز ہے کسی اور کے لئے نہیں لیکن سجدہ کے علاوہ بھی مختلف اقوام میں مختلف حرکاتِ بدن انتہائی تذلّل کے لئے قرار دے دی گئی ہیں۔جیسے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہونا ، یا رکوع وغیرہ کرنا۔ان سب امور کو خدا تعالیٰ نے عبادتِ الٰہی کا حصّہ بنا دیا ہے۔پس اب یہ عمل کسی اور کے لئے جائز نہیں۔چہارم :شرک کی چوتھی قسم یہ ہے کہ انسان اسباب ظاہری کے متعلق یہ سمجھے کہ ان سے میری سب ضروریات پوری ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ کے تصرف کا خیال دل سے ہٹا دے اور یہ خیال کرے کہ صرف مادی اسباب ہی ضرورت کو پورا کرنے والے ہیں۔یہ بھی شرک ہے۔ہاں اگر یہ خیال کرے کہ ان سامانوں میں خدا تعالیٰ نے فلاں طاقت رکھی ہے اور اس کے ارادہ کے ماتحت ان کے نتائج پیدا ہوں گے تو یہ شرک نہیں ہو گا۔پنجم:شرک کی پانچویں قسم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ مخصوص صفات جو اُس نے بندوں کو نہیں دیں جیسے مردہ کو زندہ کرنا یا کوئی چیز پیدا کرنا یا خدا تعالیٰ کا ازلی اور غیر فانی ہونا ایسے امور میں خدا تعالیٰ کی خصوصیّت کو مٹا دیا جائے۔اور ان صفات میں کسی غیر کو شریک کر لیا جائے خواہ اس عقیدہ کی بنا پر ہی شریک کیا جائے کہ خدا نے اپنی مرضی اور اپنے اذن کے ساتھ یہ صفات یا ان کا کچھ حصّہ کسی خاص شخص کو دےدیا ہے۔یہ بھی شرک ہی ہو گا۔ششم : شرک کی چھٹی قسم یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے اور یہ سمجھے کہ کسی شخص یا کسی چیز نےبلا ان اسباب کے استعمال کرنے کے جو خدا تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے مقرر کئے