تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 164 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 164

الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ۰۰۳۲ اور ہوا اُس کو کسی دور کی جگہ پر پھینک دیتی ہے۔حلّ لُغَات۔اَلرِّجْسُ الرِّجْسُ کے معنے ہیں اَلْقَذَرُ گندگی۔اَلمَأْثَمُ۔گناہ۔اَلْعَمَلُ الْمُؤَدِّیْ اِلَی الْعَذَابِ عذاب تک لے جانے والا عمل۔اَلْعِقَابُ۔سزا۔اَلْغَضَبُ: غضب۔ناراضگی (اقرب) اَلْاَوْثَانُ۔اَلْاَوْثَانُ اَلْوَثَنُ کی جمع ہے اور اَلْوَثَنُ کے معنے ہیں اَلصَّنَمُ۔بت۔(اقرب) اَلزُّوْرُاَلزُّوْرُ کے معنے ہیں اَلْکَذِبُ جھوٹ اَلشِّرْکُ بِا للّٰہِ۔اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔اَلْبَاطِلُ۔باطل۔( اقرب) اَلسَّحِیْقُ۔السَّحِیْقُ: اَلْمَکَانُ الْبَعِیْدُ۔دور کی جگہ ( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔جو بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی عزت کرتا ہے۔اُس کو اُس کے ربّ کے پاس درجے ملتے ہیں یعنی خدا کے حضور میں عزت حاصل کرنے کا اصل طریق یہ ہے کہ خدا جس زمانہ میں جن چیزوں کی عزت کرنے کے لئے کہے اُن کی عزت کی جائے۔پھر فرماتا ہے کہ چوپائوں میں سے کچھ تم پر حلال کئے گئے ہیں مگر وہ چوپائے جو بُتوں پر چڑھائے جاتے ہیں وہ تم پر حرام کئے گئے ہیں۔ان سے بچو اور جھوٹ بھی مت بولو۔یعنی چوپایوں کا اس طرح مشرکانہ طورپر قربان کرنا یہ ایک جھوٹ ہے۔اور شرک بھی مت کرو۔کیونکہ خانہ کعبہ کی بنیاد دنیا کی سب قوموں کے جمع کرنے کے لئے اور ایک مذہب قائم کرنے کے لئے رکھی گئی تھی۔اور سب قومیں صرف توحید پر ہی جمع ہو سکتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ توحید کو قبول کئے بغیر انسانی ذہن کبھی بھی اُلجھنوں اور پریشانیوں سے نجات نہیں پاسکتا۔چنانچہ واقعات بتاتے ہیں کہ جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی ہستی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا وہ ہمیشہ اُلجھنوں اور پریشانیوں کے چکر میں ہی پھنسے رہے اور کبھی بھی حقیقی امن اور سکون اُن کو نصیب نہیں ہوا۔انسان جب اس دنیا کے پردہ پر پہلی مرتبہ ظاہر ہوا تو اس وقت سورج اُسے ایک سنہری تھال نظر آتا تھا۔چاند اُسے ایک چمکدار ٹکیہ کی مانند دکھائی دیتا تھا۔اور ستاروں میں سے کوئی اسے دانوں کے برابر۔کوئی بیروں کے برابر اور کوئی اخروٹوں اور سیبوں کے برابر نظر آتا تھا۔اور زمین کی جھاڑیاں اور درخت اُسے سورج ، چاند اور ستاروں سے بھی بڑے معلوم ہوتے تھے۔اس کے لئے یہ بات حیرت انگیز تھی کہ سینکڑوں میل دُور جہاں تک اس کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا جہاں وہ پہاڑوں پر چڑھ