تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 163
جو تمہارے قریب ترین زمانہ میں ہوا ہے۔یا کسی اور آدم کا۔وہ کہتے ہیں اس پر معاً مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یا د آگئی کہ اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ آدم پیدا کئے ہیں۔اور میں نے سمجھا کہ میرے یہ جدِّاکبر بھی انہیں میں سے کسی ایک آدم سے تعلق رکھنے والے ہوںگے۔( فتوحات مکیۃ جلد ۳ باب فی معرفة منازلة زمان الشیء وجودہ الا انا فلا زمان لی و الا انت فلا زمان لک فانت زمانی و انا زمانک) حضرت محی الدین صاحب ؒ ابن عربی کا یہ کشف بھی بتا رہا ہے کہ بیت اللہ نہایت قدیم زمانہ سے دنیا کا مرکز اور لوگوں کی ہدایت کا ایک ذریعہ بنا رہا ہے اور اسی طرح یہ دنیا بھی لاکھوں سال سے چلی آرہی ہے۔چنانچہ آج سے ہزار ہا سال قبل بھی لوگ اس مقدس گھر کا اِسی طرح طواف کرتے رہے ہیں جس طرح آج ہم بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں۔یہی حقیقت قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے کہ یہ البیت العتیق ہے جو زمانۂ قدیم سے خدا تعالیٰ کے انوار و برکات کا تجلی گاہ رہا ہے اور قیامت تک دنیا کو ایک مرکز پر متحد رکھنے کا ذریعہ بنا رہےگا۔ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ بات یہ ہے کہ جو شخص اللہ (تعالیٰ) کی مقرر کردہ عزت والی جگہوں کی تعظیم کرتا ہے تو یہ اس کے رب کے نزدیک اُس رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ کےلئے اچھا ہوتا ہے اور اے مومنو! تمہارے لئے( سب) چوپائے حلال کئے گئے ہیں سواے اُن کے جن کی فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ۰۰۳۱ حُرمت قرآن میں بیان ہو چکی ہے۔پس چاہیے کہ تم بُت پرستی کے شرک سے بچو اور (اسی طرح ) اپنی عبادت اور حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَيْرَ مُشْرِكِيْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فرمانبرداری صرف اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہوئے جھوٹ بولنے سے بچو( اور) تم خدا کا شریک کسی کو نہ بنائو۔اور فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ اَوْ تَهْوِيْ بِهِ جو اللہ کا شریک کسی کو بناتا ہے وہ آسمان سے گِر جاتا ہے اور پرندے اُس کو اُچک کر لے جاتے ہیں۔