تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 153

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حج بیت اللہ کا ذکر فرمایا ہے جو ایک اہم اسلامی عبادت ہے اور جس کے مطابق ہر سال لاکھوں آدمی جن میں سے کوئی کسی قوم کا ہوتا ہے اور کوئی کسی ملک کا ایک دوسرے کے رسم و رواج ایک دوسرے کی زبان اور ایک دوسرے کی عادات وغیرہ سے ناواقف ہوتے ہوئے مکّہ مکرمہ میں جمع ہوتے ہیں اور اپنے عمل سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اسلامی توحید نے مسلمانوں کے دلوں کو ایسا متحد کر دیا ہے کہ باوجود اختلافِ زبان۔اختلافِ عقائد۔اختلاف ِ رنگ و نسل۔اختلاف ِ خیالات اور اختلافِ آب و ہوا کے ہم اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبّیک کہہ کر ایک جگہ پر جمع ہونے کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح مسلمانوں نے اپنے عمل سے ظاہری حج کے علاوہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ خانہ کعبہ کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں اور جب تک مسلمانوں میں یہ رُوح قائم رہےگی کسی دشمن کی یہ طاقت نہیں ہوگی کہ وہ خانہ کعبہ کی طرف منہ کرے یا مسلمانوں کی یکجہتی کو توڑ سکے۔کیونکہ جب تک خانہ کعبہ رہےگا مسلمانوں کی یکجہتی بھی قائم رہے گی۔اُن کی آنکھوں کے سامنے نہ صرف یہ نظارہ ہوتا ہے کہ دنیا کے کن کن کونوں میں خدا تعالیٰ نے اسلام کو پھیلا دیا بلکہ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایک بےآب و گیاہ جنگل سے بلند ہونےوالی وہ آواز جس کو غیر تو الگ رہے اپنے بھی نہیں سُنتے تھے اور آواز دینے والے کو ہر قسم کے مظالم کا تختۂ مشق بناتے تھے۔آج دنیا کے کونوں کونوں تک پہنچ کر لاکھوں انسانوں کے اجتماع کا باعث بن رہی ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان نشان کو دیکھتے اور اپنے ایمانوں میں ایک تازگی اور لطافت محسوس کرتے ہیں کہ کہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پید اہوئے جنہوں نے ایک ایسی آواز بلند کی جو گونجی اور گونجتی چلی گئی۔یہاں تک کہ وہ دُور دراز ملکوں میں پہنچی اور لاکھوں لوگو ں کو یہاں کھینچ لائی۔اور وہ مکّہ جہاں رہنے والوں کی اذیتوں اور تکلیفوں کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور جنہیں اِس سرزمین میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے کی اجازت تک نہیں تھی آج اُسی مکّہ مکرمہ میں ہر ایک کی زبان پر اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔اَللّٰہُ اَکْبَر۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔وَاللہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ جاری ہے اور وہ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ کہتے جارہے ہیں۔گویا اس وقت خدا تعالیٰ اُن کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور وہ اُس سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ہم حاضر ہیں۔ہم اقرار کرتے ہیں کہ تیرا کوئی شریک نہیں صرف تُو ہی اس امر کا مستحق ہے کہ بندوں کو آواز دے۔اور اے خدا تیرے بلانے پر ہم تیرے حضور حاضر ہیں۔پس مکّہ مکرمہ وہ مقام ہے جہاں ہر سال لاکھوں مسلمان صرف اس لئے جمع ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کریں۔اور دنیا کے سامنے اس بات کی شہادت پیش کریں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین آج بھی زندہ ہے۔اورآپ کے خادم آج بھی آپ کی آواز کو بلند کرنے کے لئے