تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 149
یہاں تک کہ اُن میں سے ہر شخص زندہ ابراہیم ؑ بن گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ آپ ابوا براہیم بھی تھے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوتِ قدسیہ سے آپ کی روحانی اولاد میں ہزاروں ابراہیم پیدا ہوئے جنہوں نے دنیا کے سامنے پھر وہی نظارہ پیش کر دیا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پیش کیا تھا۔غرض اللہ تعالیٰ نے جب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو مکّہ میں بھیجا تو درحقیقت یہ تیاری تھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی۔خدا تعالیٰ نے انہیں کہا کہ تم ہمارا گھر تیار کرو۔کیونکہ ہمارا محبوب اور ہمارا آخری شرعی رسول دنیا میں نازل ہونے والا ہے۔تم آج سے ہی ہمارے محبوب کی آمد کی تیاری میں مشغول ہو جائو اور آج سے ہی ایسی اولاد پیدا کرو جو میرے محبوب کو ابوبکر ؓ دے۔جو میرے محبوب کو عمر ؓ دے۔جو میرے محبوب کو عثمان ؓ دے۔جو میرے محبوب کو علی ؓ دے۔جو میرے محبوب کو طلحہ ؓ۔زبیر ؓ۔حمزہ ؓ اور عباس ؓ دے۔اور اسی طرح کے اور سینکڑوں صحابہ ؓ اُس کے حضور بطور نذر پیش کرے۔یہی مفہوم تھا طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْقَآىِٕمِيْنَ۠ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِکا۔ورنہ ظاہری معنوں میں تو مکّہ والوں نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بعد دین کا کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھا یا ہاں چونکہ اس پیشگوئی کا ظہور رسول کریم صلی اللہ علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہونا تھا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو مکّہ میں لاکے رکھا تاکہ وہ ایسی اولاد تیار کریں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت کرے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے لئے وقف کر دے۔مگر اس کے علاوہ چونکہ دنیا کی تمام مساجد بھی بیت اللہ ہیں۔کیونکہ وہ بھی خدا تعالیٰ کے ذکر کے لئے مخصوص ہوتی ہیں اور بیت اللہ کے ظل کے طورپر ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں قائم فرمایا ہے اس لئے یہ احکام صرف بیت اللہ کے لئے ہی مخصوص نہیں بلکہ ہر مسجد پر بھی ظلی طور پر چسپاں ہوتے ہیں۔اس نقطۂ نگاہ سے اگر غور کیا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں مساجد کی تین اہم اغراض بیان کی گئی ہیں۔اوّل۔مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ مسافر اُن سے فائدہ اٹھائیں۔دوم۔مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیںکہ شہرمیںرہنے والے اُن سے فائدہ اٹھائیں۔سوم۔مساجد اس لئے بنائی جاتی ہیں کہ رکوع و سجود کرنے والے یعنی اللہ تعالیٰ کی رضاکے لئے اپنی زندگی وقف کرنے والے اور توحیدِ کامل پر قائم لوگ اُن سے فائدہ اٹھائیں۔مسافر تو مسجد سے اس رنگ میں فائدہ اٹھاسکتا ہے کہ اگر اُسے کو ئی اور ٹھکانہ نہ ملے تو وہ اُس میں چند روز قیام