تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 148

طرح اُنہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے زمزم نکلوایا۔بعد میں جو خرابیاں نظر آتی ہیں اُن کی وجہ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔اصل غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے جن لوگوں کو اپنے بعد چھوڑا اُن میں سے بہت سے مشرک اور بُت پر ست ہو گئے۔مگر کیا دنیا کا کوئی شخص اس امر سے انکار کر سکتا ہے کہ دین کو پھیلانے کی قابلیت انہی لوگوں کے اندر تھی۔اہل مکّہ نے بے شک اسلام کی مخالفت کی۔قریش نے بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی اور شدید مخالفت کی۔بلکہ ابوجہل کو پیش کرکے کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ جس قوم میں ابوجہل جیسے لوگ پیدا ہو نے والے تھے کیا اس کے متعلق یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْقَآىِٕمِيْنَ۠ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِکہ میرے اس گھر کو کامل طواف کرنےوالوں او ر کامل قیام کرنے والوں اور کامل رکوع اور سجود کرنے والوں کے لئے تیار کرو؟ میں اُسے کہوںگا کہ اے نادان!تجھے ابوجہل تو نظر آگیا جس کا کام ختم ہوگیا۔مگر تجھے ابوبکر ؓ نظر نہ آیا جس کا کام آج تک جاری ہے۔تجھے عتبہ اور شیبہ تو نظر آگئے جو پیدا ہو کر فنا ہو گئے۔مگر تجھے عمر ؓ ، عثمان ؓ اور علیؓ نظر نہ آئے جن کو دائمی حیات بخشی گئی ہے اور جن کے کارنامے قیامت تک دُنیا سے محو نہیں ہو سکتے۔پس بے شک وہ لوگ خراب ہو گئے تھے۔مگر اُن کی یہ خرابی ایسی ہی تھی جیسے کوٹ پر مٹی پڑ جائے۔یا وہ ہیرا تو تھے مگر تراشا ہو ا ہیرا نہیں تھے۔جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اور آپ کی قوتِ قدسیہ کی برکت سے وہ تراشے گئے تو وہی ہیرے دنیا کی بہترین متاع شما ر ہونے لگے۔چنانچہ ابوجہل عکرمہ ؓ کی صورت میں ،عاصی اور وائل عمرو ؓ کی صورت میں ،ولید خالدؓ کی صورت میں ، اور ابو سفیان ، معاویہ اور یزید ابن ابوسفیان کی صورت میں ظاہر ہوا۔جب تک سونے کے ذرات مٹی میں ملے ہوئے ہوتے ہیں اُن کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔مگر جب کسی ماہر کی نگاہ اُن پر پڑتی ہے تو وہ اُن ذرّات کو مٹی سے علیحدہ کر لیتا ہے اور پھر وہی ذرّات بہت بڑی قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔اسی طرح ہیرا جب تک پتّھر میں رہتا ہے اُس کی قدر و قیمت کا کسی کو احساس نہیں ہوتا۔مگر جب کوئی ماہر اُسے کاٹ کر ہیرے کو اپنی اصل شکل میں دنیا کے سامنے پیش کر تا ہے تو اس کی قیمت لاکھوں بلکہ کروڑوں روپیہ تک پہنچ جاتی ہے۔پس اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اُن میں خرابیاں پیدا ہوئیں مگر جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن میں صفائی پیدا کی۔تو انہی میں ابوبکر ؓ ، عمرؓ ، عثمان ؓ اور علی ؓ پیدا ہوئے۔بلکہ اور ہزاروں لوگ پیدا ہوئے اُن میں طلحہ ؓ جیسے لوگ پیدا ہوئے۔اُن میں زبیر ؓ جیسے لوگ پیدا ہوئے۔اُن میں عبدالرحمٰن ؓ بن عوف جیسے لوگ پیدا ہوئے۔اُن میں ابو عبیدہؓ جیسے لوگ پیدا ہوئے۔اُن میں سعد ؓ اور سعیدؓ جیسے لوگ پید اہوئے۔اُن میںعثمان ؓ بن مظعون جیسے لوگ پیدا ہوئے۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے نام کو روشن کرنے کے لئے اپنے جذبات کی انتہائی قربانی کی۔