تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 146

میں جب بادشاہ آتے تھے تو وہ اس حجرہ میں نماز پڑھا کرتے تھے۔اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ایک دفعہ کوئی بادشاہ آیا۔اور اس کے ساتھ ہی ایک جھاڑو دینے والا بیٹھ گیا۔اُس کے نوکروں نے اُسے ہٹا نا چاہا تو سب مسلمان اور قاضی پیچھے پڑگئے اورانہوں نے کہا یہ خدا کی مسجد ہے۔یہاں چھوٹے اوربڑے کا کوئی سوال نہیں۔مسجد میں اگر کوئی بڑے سے بڑا آدمی بھی بیٹھا ہو تو اُس کے ساتھ اُس دن کا نو مسلم جو خاکروبوں یا ساہنسیوں میں سے آیا ہو کھڑے ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے۔چاہے وہ بڑا آدمی بادشاہ ہی کیوں نہ ہو۔چنانچہ اس کو نہ اٹھایا گیا۔مگر بادشاہ پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ اُس نے جگہ بدل کر پیچھے کی طرف اپنے لئے حجرہ بنوالیا۔میں نے جب یہ واقعہ سُنا تو اپنے دل میں کہا کہ اسلام کے ایک حکم کی بے حرمتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آئندہ اس سے مسجد میں نماز پڑھنے کی توفیق ہی چھین لی۔کیونکہ جس جگہ حجرہ بنایا گیا تھا وہ مسجد کا حصّہ نہیں تھا۔بہر حال اسلام نے مساجد میں بڑے اور چھوٹے کا کوئی امتیاز نہیں رکھا۔اور اس طرح بنی نوع انسان میں اُس نے ایک بے نظیر مساوات قائم کر دی ہے۔وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ اور ( یاد کر) جب ہم نے ابراہیم ؑ کو بیت اللہ کی جگہ پر رہائش کا موقعہ دیا ( اور کہا ) کہ کسی چیز کو ہمارا شریک شَيْـًٔا وَّ طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْقَآىِٕمِيْنَ۠ وَ الرُّكَّعِ نہ بنائو۔اور میرے گھر کو طواف کرنےوالوںکےلئے اور کھڑے ہو کر عبادت کرنےوالوں کےلئے اور رکوع کرنے السُّجُوْدِ۰۰۲۷ والوںکےلئے اور سجدہ کرنےوالوں کےلئے پاک کر۔حلّ لُغَات۔بَوَّاْنَا۔بَوَّاْنَا بَوَّاَ سے جمع متکلم کا صیغہ ہے۔اور بَوَّأَ لَہٗ مَنْزِلًا کے معنے ہوتے ہیں ھَیَّأَہُ وَمَکَّنَ لَہٗ فِیْہِ اُس کے لئے مکان تیار کروایا اور اس میں اس کو جگہ دی ( اقرب) پس بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ کے معنے ہیں۔ہم نے ابراہیم ؑ کو خانہ کعبہ کے مقام پر جگہ دی۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ یاد رکھو کہ ہم نے اس گھر کی تعمیر ابراہیم ؑ کے زمانہ سے شروع کی ہے۔اور اس تعلیم سے شروع کی ہے کہ اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے لوگ شرک نہ کریں اور مسافروں اور اس گھر کے پاس رہنے