تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 147

والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے اس گھر کو پا ک رکھیں۔اِن آیات سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جس قربانی کا مطالبہ کیا تھا۔اور جس کے ماتحت وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل ؑ کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ کر چلے گئے اس کی اصل غرض یہ تھی کہ وہ بڑے ہو کر بیت اللہ کی حفاظت اور دینِ ابراہیمی کی خدمت کریں۔اور ان کے ذریعہ وہ اولاد پیدا ہو جس کے ہاتھوں خدا تعالیٰ اپنے دین کا آخری دور قائم کرنا چاہتا تھا۔پس درحقیقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جس دن بیت اللہ کے پاس چھوڑا گیا اُس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اعلان کیا گیا۔کیونکہ بیت اللہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی اللہ تعالیٰ کے ذکر کا آخری گھر ہونا تھا۔اور اُس کی تیاری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانہ ہی سے شروع کر دی گئی۔دُنیا میں جب بھی کوئی بڑا کام ہونے لگتا ہے تو پہلے سے اس کی تیاری شروع کردی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چونکہ مکّہ میں ظہور مقدر تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق دو۲ ہزار سال پہلے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعہ سے تیار ی شروع کر دی۔یہ کتنا اہم مقام ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے کہ دو ہزار سال پہلے اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہما السلام کو حکم دیتا ہے کہ میرے اس گھر کو صاف کرو ،کیونکہ یہاں میرا وہ نبی آنے والا ہے جس کے نور سے ساری دنیا منور ہو گی۔چنانچہ فرمایا طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْقَآىِٕمِيْنَ۠ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِتم میرے اس گھر کو اُن لوگوں کے لئے تیار کرو جو طواف کرنے کےلئے یہاں آئیں گے۔جو قیام کرنےکےلئے یہاں آئیں گے۔اور جو یہاں آکر رکوع اور سجدہ کریں گے۔مگر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے زمانہ میں اور اس کے بعد کتنے لوگ تھے جو اس نیت کے ساتھ وہاں آیا کرتے تھے۔طواف تو لوگ کرتے ہی تھے مگر کتنے لوگ تھے جو وہاں جا کر اپنی عمر یں خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے وقف کر دیتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے سینکڑوں سال کی تاریخ محفوظ ہے ،مگر وہ تاریخ ہی بتاتی ہے کہ اس وقت وہاں بُت پرستی ہی بُت پرستی تھی۔نہ خدا کے لئے کوئی اعتکاف بیٹھنے والا تھا۔نہ خدا کے لئے کوئی قیام کرنے والا تھا۔نہ خدا کے لئے وہاں رکوع ہوتا تھا اور نہ خدا کے لئے وہاں سجدہ ہوتا تھا۔بلکہ جو لوگ خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرتے انہیں مارا اور پیٹا جاتا تھا۔پس یہ باتیں جو بیان کی گئی ہیں کہ میرے اس گھر کو تیار کرو تاکہ طواف کرنے والے قیام کرنے والے اور کامل رکوع اور کامل سجدہ کرنے والے یہاں آئیں۔یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہی ہونے والی تھیں۔اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو اسی تیاری کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔باقی رہا یہ سوال کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے پھر کیا کا م کیا ؟اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے ظاہر ی رنگ میں کعبہ کی تعمیر کی۔اسی