تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 11
بَلْ قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍۭ بَلِ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ١ۖۚ بلکہ انہوں (یعنی مخالفوں) نے تو یہاں تک کہہ دیا ہےکہ (یہ کلام) تو پریشان خوابیں ہیں بلکہ (پریشان خوابیں بھی فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ۰۰۶ نہیں) اس نے دیدہ و دانستہ یہ باتیں اپنے پاس سے بنالی ہیں بلکہ وہ ایک شاعرانہ مزاج رکھنے والا آدمی ہے( جس کے دماغ میںطرح طرح کے خیالات اٹھتے رہتے ہیں)پس چاہیے کہ ہمارے پاس کوئی نشان لے آئے جس طرح کہ پہلے رسول نشانوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔حلّ لُغَات۔اضغاث۔اَضْغَاثٌ اَلضِّغْثُ کی جمع ہے اور الضِّغْثُ کے معنے ہیں قَبْضَۃُ حَشِیْشٍ مُخْتَلِطَۃُ الرَّطْبِ بِالْیَابِسِگھاس کے مٹھی بھرتنکے جو خشک اور تر ملے جلے ہوںگے اور جب اَلضِّغْثُ مِنَ الْخَبْرِاَوِالْاَمْرِکہیں تو اس کے معنے ہوں گےمَاکَانَ مُخْتَلِطًا لَا حَقِیْقَۃَ لَہُ ایسی خبریں یا ایسی باتیں جو سچی اور جھوٹی ملی جلی ہوں اور ان کی کوئی حقیقت نہ ہو۔أَحْلَام۔أَحْلَامٌ حُلْمٌ کی جمع ہے اور حُلْمٌ کے معنے ہوتے ہیں و ہ خواب جو انسان سونے کی حالت میں دیکھتاہے لیکن عام طورپر پراگندہ خوابوں پر یہ لفظ بولاجاتاہے۔(اقرب) اَضْغَاثُ۔اَحْلَامٍ۔کے معنے ہیں اَحْلَامٌ مُلْتَبِسَۃٌ لَا یَصِحُّ تَاْوِیْلُھَا لِاِخْتِلَاطِھَا کہ ایسی خوابیں جو پراگندہ خیالات کے ساتھ ملی ہوئی ہوں جن کی تعبیر اور تاویل کرنی درست نہ ہو۔( اقرب) شَاعِرٌ۔شَاعِرٌ شِعْرٌ سے نکلاہے ہر شخص جو شعر کہتاہے اس کو بھی شاعر کہتے ہیں اور وہ شخص جو انسانی شعور یعنی جذبات سے کھیلتاہے اس کو بھی شاعر کہہ لیتے ہیں۔تفسیر۔الہام کی تردید میںکفار کوئی ایسی بات تو پیش نہیںکرسکتے جس میں دلائل کے ذریعہ اس کو رد کیا گیا ہو۔صرف یہ کہہ کر اپنے متبعین کو تسلی دے دیتے ہیں کہ تمہیں بھی تو کبھی کبھی پریشان خوابیں آجایا کرتی ہیں۔اگر اس شخص کو آگئیں تو کونسی عجیب بات ہے۔تم بھی تو کبھی کبھی جھوٹ بول لیا کرتے ہو۔اگر اس نے جھوٹ بول لیا تو کون سی بات ہے تم بھی تو ضرورت کے موقعہ پر جذبات کو ابھارنے والی باتیں کرلیتے ہو۔اس نے جذبات کو ابھارنے والی باتیںکرلیں تو کیا بات ہے یاپہلے تو وہ یہ کہتے ہیںکہ کچھ پریشان خوابیںاس نے دیکھی ہوںگی پھر اس سے بھی