تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 12
ڈرتے ہیں کہ کم از کم اس کو سچاتو مانا۔پھر کہتے ہیں مفتری ہے مگر پھر اس دعویٰ کو بھی بڑاسمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیںکہ ایسے صادق کی نسبت لوگ یہ بات کس طر ح مانیںگے؟ چنانچہ پھر کہتے ہیں یہ یونہی تمسخر ہے جیسے شاعرباتیں بناتاہے۔چونکہ رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام میں کوئی ایک شعر بھی نہیں اور قرآن کریم خود کہتاہے کہ یہ کلام کسی شاعر کا نہیں اس لئے یاد رکھنا چاہیے کہ جب قرآن کریم کے متعلق یا پہلے نبیوں کی نسبت شاعر کا لفظ آتاہے تو اس سے مراد عرف عام والا شاعر نہیں ہوتا بلکہ محض جذبات سے کھیلنے والا انسان ہوتاہے بانی سلسلہ احمدیہ بھی کبھی کبھی شعر کہتے تھے مگر وہ شاعر نہیں کہلا سکتے۔وہ خود کہتے ہیں ؎ کچھ شعر و شاعری سے اپنا نہیں تعلق اس ڈھب سے کوئی سمجھے بس مدعایہی ہے۔(قادیان کے آریہ اور ہم، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۵۹) زمیندار اخبار چالیس سال سے اس بات پر تمسخر اڑاتارہا ہے کہ مرزا صاحب شعر کہتے ہیں۔حالانکہ نہ ان کے شعروں میںکوئی لطافت ہے نہ فصاحت اور نہ زباندانی کی جھلک(اخبار زمیندار ۴؍مارچ ۱۹۳۳۔صفحہ ۳ کالم ۱،۲)۔غریب زمیندار تو یہ سمجھتا رہا کہ اس سے وہ مرزا صاحب کی تردید کر رہاہے۔حالانکہ وہ اس ذریعہ سے احمدیوں کو یہ ہتھیا ر مہیا کر کے دے رہا تھا کہ باوجود کچھ موزوں کلام کہنے کے مرزا صاحب شاعرنہیںکہلا سکتے او ران کے ملہم ہونے پر کوئی اعتراض نہیںہوسکتا۔فَلْيَاْتِنَا بِاٰيَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ کفار اپنے باپ دادوں کو آپ جھوٹاکہتے ہیں پہلے زمانوںکی تاریخ بتاتی ہے کہ ہر نبی کو لوگوں نے کہا کہ یہ نشان نہیںلایا لیکن انہی لوگوں کی اولاد نے آگے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانہ میںاپنے باپ دادوںکوجھوٹاکہہ دیا اور یہ کہنے لگے کہ پہلے رسول تو آیات لایا کرتے تھے مگر محمد ؐرسول اللہ کوئی آیت نہیں لائے دیکھو خدا تعالیٰ کی تدبیر کیسی زبردست ہے جب پہلے نبیوں کے دشمن یہ کہتے تھے کہ لائو نشان دکھائو تو خدا کے فرشتے ان پر ہنستے ہوںگے کہ ٹھہر جائو ابھی تمہارے پوتے پڑپوتے تمہیںجھوٹاکہیںگے۔چنانچہ اس کی ظاہری صورت یہ پیدا ہوگئی کہ وہی نبی جن کی قوم ان کو کہتی تھی کہ تم کوئی نشان کیوں نہیں لائے جب مرگئے تو ان کی قوم نے ان کی طرف مضحکہ خیز باتیں منسوب کردیں کبھی کہہ دیا وہ مردے زندہ کرتے تھے (لوقا باب ۷ آیت ۱۱ تا ۱۵)جیسا کہ مسیح کی قوم نے کہا کبھی کہہ دیا کہ جدھر ان کے پیر ہوتے تھے ادھر مقدس مقامات اپنی جگہ سے ہٹ کر پھر جاتے تھے جیسا کہ سکھوں نے کہہ دیا کہ جب باوانانک ؒ مکہ گئے تو جدھر ان