تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 10
ہیںبلکہ اس کلام کو انسان کی طرف منسوب کرکے یہی سمجھتے رہے ہیںکہ یہ تو ایک آدمی ہے اور ہم بڑی قوم ہیں یہ ہم سے بچ کر کہاں جاسکتاہے اور اس کی اعلیٰ تعلیم سے مجتنب رہنے کے لئے اپنی قوم کو سمجھاتے رہے اور کہتے رہے ہیںکہ اس کی دلفریب باتوں پرنہ جانا جب تمہاری تعداد زیادہ ہے اور یہ مدعی تمہارے مقابلے میںاکیلا ہے تو آخر تم ہی غالب آئو گے۔لَاهِيَةً قُلُوْبُهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى جیسا کہ حل لغات میں بتایا جاچکا ہے نجوٰی کے معنے پوشیدہ بات کرنے کے ہیںپس نَجْوٰی جو خود مخفی ہوتاہے اس کے ساتھ اَسَرُّوا کا لفظ مبالغہ کے لئے لگایا گیا ہے یعنی ایسے خفیہ منصوبے کرتے ہیں جن کا لوگوں کو علم تک نہیں ہوتا پھر پبلک میںکہتے ہیں هَلْ هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ اَفَتَاْتُوْنَ السِّحْرَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ کہ یہ تو ایک تمہارے جیسا انسان ہے کیا تم اس کے کلام کو جو سحر ہے سنتے ہو اور اسے قبول کرتے ہو حالانکہ تم کو علم ہے کہ یہ سب ملمع سازی کی باتیں ہیں۔قٰلَ رَبِّيْ يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِي السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ٞ وَ هُوَ (ان باتوںکو سن کر محمدؐ رسول اللہ نے) کہا میرارب جانتاہے ان باتوں کو جو آسمان میں (کہی جاتی) ہیں اور (ان کو بھی) السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۰۰۵ جو زمین میں(کہی جاتی) ہیں اور وہ بڑا سننے والا (او ر)بڑا جاننے والا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے عالم الغیب خدا کو کفار کے یہ ارادے پہلے سے معلوم تھے کہ وہ خفیہ منصوبے کریں گے اورپھر پروپیگنڈہ کرکے لوگوںکو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اس لئے اس نے اپنے الہام میں اور انسانی قلوب میںپہلے سے اس کاعلاج رکھ دیا ہے یہ تو رسولوں کو صرف ایک بشر سمجھتے ہیںلیکن یہ نہیںجانتے کہ رسولوں کے پیچھے ایک دعائیں سننے والا اور غیب کاجاننے والا خدا بھی ہے اس لئے خواہ یہ ان کے خلاف دنوں کو منصوبے کریں یا راتوں کو اور خواہ ان منصو بوں کو ظاہر کریں یاپوشیدہ رکھیں اللہ تعالیٰ ان کے منصوبوں کو توڑ کر رکھ دےگا۔