تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 136
کے دعویٰ کرتے ہی مسلمانوں کی ترقی اور اپنی تباہی کی امید نہیں لگا بیٹھنی چاہیے۔جس طرح جسم آہستہ آہستہ پیدا ہوتا ہے اسی طرح اسلام اور مسلمان بھی آہستہ آہستہ کمال حاصل کریں گے۔اور جس طرح جسم پر ایک عرصہ کے بعد تنزل وارد ہوتا ہے اور وہ بالکل بے کار ہو جاتا ہے اسی طرح مسلمانوں کے مقابلہ میں تم بھی کچھ عرصہ کے بعد تنزل کا شکار ہو جائو گے اور تباہ ہو جائو گے۔پس جلدی نہ کرو۔نہ خدا کی طرف سے آنے والی زندگی فوراً اثر ظاہر کرتی ہے اور نہ قوموں پر آنے والی موت فوراً نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ہاں خدا کی باتیں ضرور پوری ہو کر رہتی ہیں۔اور جس کے لئے زندگی مقدّر ہو اس کو زندگی مل جاتی ہے۔اور جس کے لئے تباہی مقدّر ہو اُس پر تباہی آجاتی ہے۔اور جن کے لئے زندگی مقدّر ہے خواہ وہ قبروں میں پڑے ہوئے نظر آتے ہوں پھر بھی وہ زندہ ہو کر رہیں گے اور جن کے لئے موت مقدّر ہے وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق کج بحثی کرتے چلے جائیں گے اور تکبّر سے کا م لیں گے اور چاہیں گے کہ دوسروں کو بھی گمراہی میں ڈالیں لیکن آخر وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوںگے اور قیامت کے دن بھی عذاب پائیں گے۔لیکن خدا کی طرف سے آنے والا عذاب بلاوجہ نہیں ہوتا وہ انسان کی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہے کہ انسان اُس کی طرف پوری طرح متوجہ ہو۔بے دلی سے اُس کی عبادت مقبول نہیں ہوتی۔خوشی اور رنج دونوں میں اُس کا ساتھ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ورنہ ایسے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ وہ ایمان جو انسان کو خدا تعالیٰ کے انعامات کا وارث کرتا اور اس کو مقّرب اور نعماء الٰہیہ کا جاذب بنا تا ہے وہ وہی ایمان ہوتا ہے جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک اور ماسوی اللہ کی محبت سے خالی ہو۔ہمارے ملک میں بھی لوگ کہا کرتے ہیں کہ دو کشتیوں میں پائوں رکھنے والا انسان کبھی بچ نہیں سکتا اگر دونوں کشتیاں کچھ وقت تک اکٹھی بھی چلی جائیں تب بھی پانی کی رو ایک نہ ایک وقت ان کو ضرور علیحدہ کر دے گی اور ان کشتیوں میں پاؤں رکھنے والا انسان غرق ہو کر رہےگا۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ان لوگوں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا جو مُنہ سے تو اس کے ساتھ اپنی محبت کا دعویٰ کرتے ہوں اور عملی طور پر رات دن وہ دنیا پر گرے رہتے ہوں اور خدائی احکام کو پس پشت ڈال رہے ہوں۔جب ترکوں نے بغداد پر حملہ کیا تو اٹھارہ لاکھ آدمی انہوں نے قتل کر دیا تھا (تاریخ ابن خلدون۔وفاۃ المستنصر و خلافۃ المستعصم)۔ایسی تباہی اور بربادی کے وقت کچھ لوگ ایک بزرگ کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ آپ دُعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس تباہی سے بچالے۔انہوں نے کہا میں کیا دُعا کروں۔میں تو جب بھی ہاتھ اٹھاتا ہوں مجھے آسمان سے ملائکہ کی یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ اَیُّھَاالْکُفَّارُ اُقْتُلُواالْفُجَّارَ یعنی اے کافر و!ان فاجر مسلمانوں کو خوب مارو۔حالانکہ بظاہر اُن میں سے ایک فریق جو مارا جارہا تھا خدا اور اس کے رسول ؐ پر ایمان رکھتا تھا اور دوسرا فریق دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا مگر چونکہ