تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 137

مسلمان کہلانے والوں نے مذہب کو صرف نام کے طورپر قبول کیا تھا۔اپنے قلوب میں انہوں نے کوئی تغّیر پیدا نہیں کیا تھا۔اس لئے ان پر عذاب آگیا۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اپنے ایمان کا جائزہ لیتا رہے اور دیکھتا رہے کہ اس کا خدا تعالیٰ کے ساتھ کیسا تعلق ہے۔اور آیا عسر اور یُسر دونوں حالتوں میں وہ وفاداری کے ساتھ اپنے عہد پر قائم ہے یا نہیں۔اگر انعام کے وقت وہ خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا اور مصیبت کے وقت یہ کہنا شروع کر دیتا ہے کہ خدا نے پہلے مجھ پر کونسا احسان کیا تھا جو یہ مصیبت بھی بھیج دی تو صاف پتہ لگ جاتا ہے کہ اُس کا ایما ن محض دھوکا تھا۔کا مل الایمان وہی شخص کہلا سکتا ہے جو ہر ابتلاء اور مصیبت میں ثابت قدم رہتا ہے۔بلکہ مصائب کے آنے پر وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اور زیادہ جھک جاتا اور اپنے اندر پہلے سے بھی زیادہ عجز اور انکساری پیدا کرتا ہے۔یہی بات اس جگہ بیان کی گئی ہے اوراللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں ہر حالت میں خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھنا چاہیے۔اور کسی مصیبت میں بھی اس سے اپنا تعلق قطع نہیں کرنا چاہیے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک بدوی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا مگر چنددنوں کے بعد ہی اُسے بخار ہوگیا۔اس پر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میں اپنی بیعت واپس لیتا ہوں۔کیونکہ مجھے تپ آنے لگا ہے ( بخاری کتاب فضائل المدینۃ باب المدینۃ تنفی الخبث) مگر اس کے مقابلہ میں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے اپنی جانیں قربان کردیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو عہد انہوں نے کیا تھا اس میں کوئی رخنہ واقع نہ ہونے دیا۔حقیقت یہ ہے کہ سچے تعلق اور اخلاص کا پتہ ہی اسی وقت لگتا ہے جب انسان پر کوئی ابتلاء آتا ہے۔ورنہ آرام اور آسائش کی حالت میں تو کمزور ایمان والے بھی بڑی عقیدت اور تعلق کا اظہار کرتے ہیں۔قرآن کریم کے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی یہ کیفیت بیان فرمائی ہے کہ کُلَّمَا اَضَآءَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِ وَاِذَا اَظْلَمَ عَلَیْھِمْ قَامُوْا (البقرۃ :۲۱)کہ جب کبھی بجلی ان کے لئے روشنی پیدا کر دیتی ہے تو وہ اُس میں چلنے لگتے ہیں اور جب اندھیرا کر دیتی ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔یعنی امن کے دن ہوں تو منافق مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔لیکن مشکلا ت کا وقت آئے تو الگ ہو جاتے ہیں۔ایسا ایمان انسان کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔اس آیت میں یہی بتا یا گیا ہے کہ جس شخص کا تعلق خدا تعالیٰ سے ایسا کمزور ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اور پھر یہ تو اور بھی حماقت ہے کہ انسان خدا کی عبادت کو چھوڑ کر بتُوں کی عبادت اختیار کرے جو نہ نقصان دیتے ہیں نہ نفع۔بلکہ اُن کی عبادت سے نقصان کا احتمال تو ہے نفع کا نہیں۔ان لوگوں کے مقابلہ میں وہ لوگ جو ایک خدا کی پر ستش کرتے ہیں وہ اگلے جہان میں بھی سُکھ پائیں گے اور اس دُنیا میں بھی سُکھ پائیں گے۔چنانچہ جو لوگ ایسا گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کامل موحد بندے یعنی محمد رسول ا للہ