تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 135

خوش ہوا۔پس بَھِیْجٌ کے معنے ہونگے۔خوش کرنے والا۔(اقرب) عِطْفٌ۔عِطْفٌ کے معنے ہیں جانب۔پہلو۔(اقرب) حَرْفٍ۔حَرْفُ کُلِّ شَیْ ئٍ: طَرَفُہٗ وَ شَفِیْرُہٗ وَحَدُّ ہٗ۔حَرْفٌ کے معنے ہیں ہر چیز کا کنارہ اور اُس کی حد۔(اقرب) اَلْعِشَیْرُ۔اَلْعِشَیْرُکے معنے ہیں اَلصَّدِّ یْقُ دوست۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے اے لوگو ! تم کو مرنے کے بعد کی زندگی کے متعلق کیوں شبہات ہیں۔کیا تم دیکھتے نہیں کہ تمہاری پہلی پیدائش کس طرح بے جان چیزوں سے ہوئی ہے۔مٹی سے سبزہ نکلتا ہے۔پھر اس سبزہ کو کھا کر نطفہ بنتا ہے۔پھر نطفہ خون کے لوتھڑے کی شکل اختیار کر تا ہے پھر وہ گوشت کی شکل اختیا ر کر لیتا ہے۔جس کا کچھ حصہ تو انسانی جسم کی شکل اختیا ر کر چکا ہوتا ہے اور کچھ حصّہ ابھی ایسی شکل اختیار نہیں کر چکا ہوتا۔پیدا ئش کی یہ ترتیب اس لئے رکھی گئی ہے تاکہ ہم اس سے تمہاری روحانی پیدا ئش کا اندازہ بھی تمہیں بتا سکیں۔اور جب ہم جنین کو ایک حد تک پیدا کر لیتے ہیں توہم اس کو ایک عرصہ تک رحم میں رکھتے ہیں۔پھر اُسے ایک بچہ کی شکل میں باہر نکالتے ہیں تاکہ آہستہ آہستہ تم اپنی جوانی کو پہنچو۔اور تم میں سے کسی کی رُوح تو پہلے ہی یعنی دنیا میں کام کرنے سے پہلے قبض کر لی جاتی ہے۔اور تم میں سے بعض کو بڑھاپے کی کمزور عمر تک لے جایا جاتا ہے تاکہ ایک خاص مقدار تک علم حاصل کر کے وہ بالکل جاہل ہو جائے۔اور تم زمین کو بھی دیکھتے ہو کہ وہ بالکل بے طاقت پڑی ہوئی ہوتی ہے لیکن جب ہم اُس پر پانی بر ساتے ہیں تو وہ لہلہانے لگتی ہے اور اس کی سبزی اُگنے لگتی ہے اور ہر قسم کے خوبصورت نباتی جوڑے اُگانے لگتی ہے۔یہ اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر بات پوری ہو کر رہتی ہے۔اور وہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے۔اور وہ ہر اس چیز پر قادر ہے جو اس کے منشاء کے مطابق ہو تی ہے۔ہم نے یہ ترجمہ اس لئے کیا ہے کہ یہاں یہ نہیں آیا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ یعنی خدا تعالیٰ کی قدرت کا اظہار پسندیدہ چیزوں میںہوتا ہے۔نا پسند یدہ چیزوں میں نہیں۔پس یہ نہیں کہہ سکتے کہ کیا خدا جھوٹ بول سکتا ہے ؟ یا کیا خدا چوری کر سکتا ہے ؟ یا کیا خدا خود کشی کر سکتا ہے کیونکہ یہ سب چیزیں ناپسند یدہ ہیں۔اور قدرت کے اظہار کے خلاف ہیں۔قرآن شریف یہی کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ پسندیدہ چیزوںکا اندازہ کرنے والا ہے جو قَدِيْرٌ کے معنے ہیں۔یعنی ایسے امور کو ظاہر کرنے والا ہے جو اس کے منشاء کو پورا کرتے ہوں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان تمام باتوں کو دیکھ کر تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ جس طرح جسم کی پیدائش تدریجاً ہوتی ہے اسی طرح رُوح کی پیدا ئش بھی تدریج سے ہوتی ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم