تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 130 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 130

گویا یہ ذلت کا انتہائی مقام ہے کہ وہ انسان جسے خدا نے اپنا عبد بننے کےلئے پیدا کیا تھا وہ اپنی بد کر داریوں سے شیطان کی فرمانبر داری کرنے لگ جا تا ہے۔اس جگہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کے بارے میں بھی کچھ روشنی ڈال دی جائے کہ وہ کیا چیز ہے۔شیطان کے معنے عربی زبان کے لحاظ سے حق سے دُور ہونے والے وجود کے ہیں یا بدی میں ترقی کر جانے والے کے (لسان العرب )اور ابلیس ایسے وجود کو کہتے ہیں جو مایوس ہو جائے۔(اقرب)میری تحقیق کے مطابق شیطا ن اور ابلیس ایک ایسے وجود کا بھی نام ہے جسے خدا تعالیٰ نے انسانوں کے امتحان کےلئے ملائکہ کے مقابل میں رکھاہے۔اس شیطان کےلئے اُس وقت تک کہ اس کا کا م پورا ہو موت نہیں۔جس طرح کہ ملائکہ کے لئے اس وقت تک کہ ان کا کام پورا ہو موت نہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کے بالمقابل جو وجود کھڑا ہو اتھا وہ یہ شیطان بھی تھا اور اس کے اظلال بھی تھے۔لیکن قصّۂ آدم میں جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں اُن کے دو حصّے ہیں۔ایک حصّہ بدی کے محرک کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ایک حصّہ اُس کے اظلال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔پس حضرت آدم علیہ السلام کے وقت کا شیطان زندہ بھی ہے اور مر بھی چکا ہے۔وہ زندہ ہے اِن معنوں میں کہ محرکِ بدی انسانی نسل کے اس دنیا میں موجود رہنے تک قائم رکھا جائے گا اور وہ مُردہ ہے ان معنوں میں کہ اُس کے وہ اظلال جن کا قصّہ آدم ؑ میں ذکر آتا ہے وہ اُسی زمانہ میں فوت ہوچکے ہیں۔وہ شیطان جو محرک ِ بدی ہے اُس کے متعلق تو کسی ثواب اور عذاب کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کیونکہ ایک آدمی کو قتل کرنےوالا آدمی پھانسی پاتا ہے لیکن بیسیو ں آدمیوں کو جلادینے والی بجلی تو کسی سزا کی مستحق نہیں ہوتی۔زلزلہ کا مادہ علاقوں کو اجاڑ دیتا ہے۔اولوں کی بارش زمیندار و ں کو تباہ کر دیتی ہے۔آندھیاں شہروں کو ویران کر دیتی ہیں۔یہ دُکھ دینے والی چیزیں ہیں لیکن کسی شرعی الزام کے نیچے نہیں آتیں۔بے شک شیطان اور ابلیس کا ٹھکانہ جہنم ہے جس طرح فرشتوں کا ٹھکانہ جنّت ہے لیکن نہ فرشتے جنّت سے متلذّذ ہو سکتے ہیں اور نہ شیطان جہنّم سے متالم۔شیطان ایک ناری وجود ہے۔کیا آگ کا انگارہ بھی بھٹی میں دُکھ پا سکتا ہے ؟ اُس کا تو مقام ہی وہی ہے۔پس شیطان کے دوزخ میں جانے کے یہ معنے نہیں کہ اُس کو سزا دی جائے گی بلکہ وہ جس جگہ کی چیز ہے وہیں چلی جائےگی۔ملائکہ اگر جنّت میں جائیں گے تو وہ کسی انعام کے بدلہ میں نہیں جائیں گے۔اِسی طرح شیطان بھی دوزخ میں کسی سزا کی وجہ سے نہیں جائےگا۔ہاں جو اس کے اظلال ہیں وہ اپنے اپنے مراتب کے مطابق سزا پائیں گے۔اس لئے کہ وہ ایسے کام کرتے ہیں جن کے لئے اُن کو پیدا نہیں کیا گیا۔سزا ہمیشہ اُن کاموں کی ملتی ہے جو خلاف قانونِ طبعی ہوتے ہیں۔