تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 131
انسان کو چونکہ خلقتاًنیکی کے لئے پیدا کیا گیا ہے جیسے فرمایا وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذٰریٰت:۵۷)۔اس لئے جو شخص عبودیت کو ترک کر تا اور عبادت کو بھُلا دیتا ہے وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے ، مگر محرک بدی تو پیدا ہی امتحان کے لئے کیا گیا ہے اُس کو تو سزا تبھی مل سکتی ہے جب وہ تحریک ِ بدی میں سُستی کرے۔ہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ پھر اس کو بُرا کیوں کہا جاتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی چیز کا بُرا ہونا اور شے ہے اور سزا کا مستحق ہونا اور شے۔پاخانہ کو گھر سے اٹھا کر اس لئے نہیں پھینکتے کہ اسکو سزا دیتے ہیں بلکہ اس لئے کہ اُس کا رہنا ہماری صحت کے لئے مضر ہوتا ہے۔یہی حال محرک بدی شیطان کا ہے۔وہ بیماری اور گناہ کا نمائندہ ہے۔اس لئے لازمی طور پر اُسے برا کہا جائےگا لیکن باوجود اس کے وہ سزا کا مستحق نہیں۔ہاں اس کے ماتحت کچھ اظلال ہیں جو انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنّوں میں سے بھی۔ایسی بد ارواح جن کا مقصد ِ پیدائش بدی نہیں لیکن بدی کو پسند کر کے وہ بدی کی محرک ہو جاتی ہیں یا ایسے انسان جو بدی کے لئے نہیں پید ا کئے گئے لیکن وہ بدی کو پسند کرکے بدی کے محرک بن جاتے ہیںیہ لوگ بھی اپنے اپنے درجہ کے مطابق شیطان اور ابلیس ہیں۔اور سزا کے مستحق ہیں۔يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ رَيْبٍ مِّنَ الْبَعْثِ فَاِنَّا اے لوگو! اگر تم دوبارہ اٹھائے جانے کے متعلق شبہ میں ہو تو (یاد رکھو ) ہم نے تم کو پہلے مٹی سے پیدا کیا تھا۔پھر نطفہ خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ سے۔پھر ترقی دیکر ایک ایسی حالت سے جو کہ چمٹ جانیکی خاصیت رکھتی تھی پھر ایسی حالت سے کہ وہ ایک بوٹی کے مِنْ مُّضْغَةٍ مُّخَلَّقَةٍ وَّ غَيْرِ مُخَلَّقَةٍ لِّنُبَيِّنَ لَكُمْ١ؕ وَ مشابہ تھی۔کچھ عرصہ تک تو وہ ایک کامل بوٹی کی شکل رہی اور کچھ عر صہ تک ناقص بوٹی کی شکل رہی تاکہ ہم تم پر نُقِرُّ فِي الْاَرْحَامِ مَا نَشَآءُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ ( حقیقت حال ) ظاہر کر دیں۔اور ہم جس چیز کو چاہتے ہیں رحموں میں ایک مدّت تک قائم کردیتے ہیں۔پھر ہم تم کو نُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ ایک بچّہ کی شکل میں نکالتے ہیں۔( پھر بڑھاتے جاتے ہیں ) جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تم اپنی مضبوطی ( کی عمر) کو پہنچ