تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 129

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يُّجَادِلُ فِي اللّٰهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَّ يَتَّبِعُ اور لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ (تعالیٰ) کے بارہ میں بغیر علم کے بحث کرتے ہیں ( اور) ہر حق سے كُلَّ شَيْطٰنٍ مَّرِيْدٍۙ۰۰۴كُتِبَ عَلَيْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ دُور اور سرکش کی اتباع کرتے ہیں (حالانکہ ) اِن (سرکشوں اور حق سے دُور لوگوں ) کے متعلق فیصلہ کیا جاچکا ہے کہ جو فَاَنَّهٗ يُضِلُّهٗ وَ يَهْدِيْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِيْرِ۰۰۵ (شخص) بھی ایسے آدمیوں میں سے کسی کے ساتھ دوستی کرےگا وہ ( سرکش اور حق سے دُور شخص) اُس کو بھی گمراہ کر دےگا اور دوزخ کے عذاب کی طرف لے جائے گا۔حلّ لُغَات۔مَرِیْدٍ۔مَرِیْدٍاَلْخَبِیْثُ الْمُتَمَرِّدُ الشَّرِیْرُ۔مرید کے معنے ہیںشریر اور سرکش۔( اقرب) السَّعِیْرُ السَّعِیْرُکے معنے ہیں اَ لنَّارُ آگ۔( اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے کہ بغیر واضح دلیل کے تو کسی معاملہ میں بھی نہیں جھگڑنا چاہیے۔پھر یہ کتنا ظلم ہے کہ کو ئی شخص خدا تعالیٰ کے متعلق کج بحثی شروع کر دے اور کسی سرکش شیطان کے پیچھے لگ جائے۔حالانکہ یہ الٰہی تقدیر ہے کہ جو شخص سرکش شیطان کے پیچھے لگ جائے اور اس کا دوست بن جائے۔وہ اُسے گمراہ ہی کرتا ہے اور اُسے عذاب ہی کا رستہ دکھاتا ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص بار بار شیطان کی بات ماننے لگتا ہے تو ان دونوں کا آپس میں دوستانہ تعلق ہو جاتا ہے اور یہ تعلق آخر اُسے جہنم تک پہنچا کر رہتا ہے۔ایک دوسرے مقام پر بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَہٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا (النساء:۳۹) کہ شیطان جس کا ساتھی بن جاتا ہے اُسے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ بہت ہی بُرا ساتھی ہے۔اگر اس حالت میں بھی انسان اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ کرے تو پھر بدیوں میں بڑھتے بڑھتے آخر وہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ شیطان اس کا دوست نہیں رہتا بلکہ آقا بن جاتا ہے۔اور وہ اُس کی غلامی میں پورے طور پر جکڑا جاتا ہے۔گویا مومن تو ہدایت پر سوار ہوتے ہیں مگر یہ شخص اتنا گِرجا تا ہے کہ شیطان اُس کی پیٹھ پر سوار ہو جاتا ہے اور وہ جدھر چاہتا ہے اُسے ہانک کر لے جاتا ہے۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق قرآن کریم نے کہا ہے کہ بعض انسانوں کو ہم نے ایسا بنایا ہے کہ وہ شیطان کی پرستش کرنے لگ گئے ہیں ( المائدۃ :۶۱)